نیویارک (مشرق نیوز) ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ طبی مشوروں کیلئے مصنوعی ذہانت کے ٹول چیٹ جی پی ٹی پر مکمل انحصار کرنا مناسب نہیں اور صارفین کو احتیاط برتنی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر ہفتے 230 ملین سے زیادہ افراد صحت سے متعلق سوالات کیلئے چیٹ جی پی ٹی سے رجوع کرتے ہیں۔ لوگ اس پلیٹ فارم سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سی غذائیں محفوظ ہیں یا مختلف بیماریوں کیلئے کون سے گھریلو علاج مفید ہوسکتے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ اگرچہ یہ ٹول واضح ہنگامی صورتحال کو اکثر درست انداز میں پہچان لیتا ہے، تاہم نصف سے زیادہ ایسے کیسوں میں خطرے کی شدت کا کم اندازہ لگایا گیا جن میں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ اس تحقیق کیلئے ماہرین کی ٹیم نے 21 طبی شعبوں سے متعلق 60 مختلف طبی منظرنامے تیار کئے، ان میں معمولی بیماریوں سے لیکر سنگین ہنگامی حالات تک کے کیس شامل تھے۔
مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جب صارفین خود کو نقصان پہنچانے جیسے حساس معاملات کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو اے آئی کے جوابات کم قابل اعتماد ثابت ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق ایسے کیسوں میں ردعمل بعض اوقات غیر مستقل یا متضاد نظر آیا۔
تحقیق کے شریک مصنفین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحت کے شعبے میں اے آئی کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مددگار ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اسے طبی ماہرین کی رہنمائی کے ساتھ سمجھداری سے استعمال کرنا ضروری ہے۔
ماہرین نے مزید مشورہ دیا کہ اگر کسی شخص کو سینے میں درد، شدید الرجی یا تیزی سے بگڑتی ہوئی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور صرف چیٹ بوٹ کے مشورے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اے آئی زبان ماڈلز مسلسل اپ ڈیٹ اور بہتر کیے جا رہے ہیں، اسلئے ان کی کارکردگی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور اس پر مسلسل تحقیق اور نگرانی ضروری ہے۔
طبی مشورے کیلئے چیٹ جی پی ٹی پر انحصار، اہم ہدایات جاری کردی گئیں


















