اسلام آباد: (بیورورپورٹ)وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے آئی ایم ایف مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا،درآمدی ایندھن پر انحصار معیشت ،توانائی سلامتی کےلئے خطرہ ہے،2035 تک صاف توانائی کا حصہ 90فیصد تک بڑھانا ہدف،ایندھن کے درآمدی بل میں کمی کےلئے بیٹری انرجی سٹوریج کو مقامی سطح پر فروغ دیا جائے گا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا حکومت بیٹری سٹوریج کی مقامی صنعت کے قیام، مقامی انجینئرنگ، سسٹم انٹیگریشن ، بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ، وزارت صنعت مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے گی،قومی بیٹری انرجی سٹوریج فریم ورک میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن اور سرمایہ کاری کے قواعد شامل ہوں گے، پاکستان کی سولر توانائی صلاحیت 3000میگاواٹ تک جاپہنچی۔
اویس لغاری نے کہامخصوص اوقات میں سستی بجلی کی سہولت پر آئی ایم ایف کو راضی کیا جائےگا،بڑی توانائی اصلاحات ہو رہی ہیں، آئی ایم ایف کے سامنے تمام حقائق رکھیں گے،پاکستان کا پہلا جامع توانائی پلان آئندہ سال اپریل میں آ جائےگا، لوگ مستقبل میں اپنی شمسی توانائی کوسٹورکرکے رات میں استعمال کریں گے، دن کے وقت سولر بجلی دستیاب ہونے سے بجلی کی صورتحال نسبتاً بہتر رہی۔
وزیر توانائی نے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کانفرنس کی سفارشات کو براہ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا ،حکومت نمائشی رپورٹس نہیں بلکہ قابل عمل اور حقیقت پر مبنی تجاویز چاہتی ہے۔
IMFسستی بجلی میں رکاوٹ،درآمدی ایندھن پر انحصار معیشت کےلئے خطرہ ہے،اویس لغاری


















