اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے فاٹا کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے اور پہلے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام پہلے ہی متعدد مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں مزید ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کے تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں اور امید ہے کہ ان پر مثبت غور کیا جائے گا۔امیر مقام نے کہا کہ نئے ٹیکسوں کا بوجھ عام دکانداروں اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گاجبکہ انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی کام، تعلیمی و طبی سہولیات اور امن و امان کی صورتحال اب بھی مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے اور پسماندہ علاقوں پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نام ختم کرنے کی سوچ قومی مفادات کے خلاف ہے اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی، مذہبی اور جذباتی رشتے کو کمزور کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا، عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہوگی اور خطے میں امن، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائیگی۔
امیر مقام کی فاٹا کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت


















