متروکہ وقف املاک بورڈ،مجاز اتھارٹی کا فیلڈ افسران کی سرعام خلاف ورزیوں کا نوٹس

لاہور (قاضی ندیم اقبال) متروکہ وقف املاک بورڈ میں غیر مسلم وقف املاک/اراضیوں کے حقوق ملکیت تبدیل کرتے وقت کرایہ داری کی از سر نو تشخیص نہ کرنے کا معاملہ۔فیلڈ افسروں کے اختیارات سے تجاوز اور قواعد و ضوابط کے برعکس اقدامات کے باعث ادارہ کو ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں روپے کے ہونے والے نقصان کا مجاز اتھارٹی نے نوٹس لے لیا۔ چیئر مین بورڈ کی ہدایت پر (پراپرٹی) برانچ نے ملک بھر میں تعینات زونل ایڈمنسٹریٹرز، ڈپٹی ایڈمنسٹریٹرز اور اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹرز کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے ری اسیسمنٹ پالیسی2006 پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کر دی۔ ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی بھی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں تعینات فیلڈ افسروں کوجاری مراسلہ نمبری 1986 میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ فیلڈ افسران غیر مسلم وقف املاک/اراضیوں کے مالکانہ حقوق کی تبدیلی کے کیسوں کی پروسیسنگ/منظوری کے وقت ان کے کرایوں کی از سر نو تشخیص نہیں کرتے اور اس ضروری ترین عمل /کارروائی کے بغیرہی کیسز کی منظوری دے رہے ہیں۔ غیر مسلم وقف املاک/اراضیوں کے مالکانہ حقوق کی تبدیلی کے وقت پرانی شرح سے کرایہ کی کم وصولی کے اقدام سے محکمہ کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق فیلڈ افسروں کو کہا گیا ہے کہ ان کی اس کوتاہی کا چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ نے نوٹس لے لیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مستقبل قریب اور مستقبل بعید میں تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترمیم شدہ سکیموں / قواعد کی متعلقہ دفعات کے تحت اپنے اختیارات کا سختی سے استعمال کریں۔آئندہ کوتاہی برتنے یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائیگی اور چیئرمین ای ٹی پی بی ایسے معاملات کا جائزہ لینے کیلئے کسی بھی وقت قلیل مدتی اجلاس منعقد کر سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تمام فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ای ٹی پی بی اربن اسکیم 1977 کی شق 10 کے تحت کرایہ داری کے معاملات کی منظوری سے پہلے اتھارٹی کی ہدایات کی روشنی میں عمل یقینی بنائیں۔ غیر مسلم وقف املاک/اراضیوں کے حقوق ملکیت تبدیل کرتے وقت کرایہ داری کی از سر نو تشخیص کو یقینی بنائیں۔