دنیا بھر میں ڈاون سنڈروم سے آگاہی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

لاہور (مشرق نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ڈاون سنڈروم ڈے منایا جا رہا ہے۔ یہ ایک پیدائشی جینیاتی نقص ہے، ایسے بچوں کو والدین کی توجہ نارمل زندگی کی طرف مائل کرسکتی ہے، ہر سال 21 مارچ کو ” ڈاون سنڈروم کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے، ڈاون سنڈروم ایک سنگین جینیاتی نقص ہے اور اس کا شکار بچوں میں ذہنی اور جسمانی معذوری مختلف شدت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔

ڈاون سنڈروم کو ٹریزومی 21 بھی کہا جاتا ہے، ڈاون سنڈروم کا شکار بچوں کے خلیات میں 46 کے بجائے 47 کروموسوم ہوتے ہیں، یہ زائد کروموسوم بچے کی ذہنی نشوونما میں تاخیر اور جسمانی معذوری کا سبب بنتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر 1 ہزار میں سے 1 بچہ ڈاو¿ن سنڈروم کا شکار ہو سکتا ہے، پاکستان میں ڈاو¿ن سنڈروم کی مریضوں کی تعداد کا درست تعین نہیں کیا جاسکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاون سنڈروم کا شکار بچے عام طور سے بہت خوش طبع ہوتے ہیں، ان کو پڑھنے، لکھنے، چلنے، سوچنے اور سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، معذوری کے باوجود یہ بچے قدرت کی دیگر صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں، ڈاون سنڈروم کا شکار بچوں کو والدین کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے ڈاون سنڈروم بچے مختلف صلاحیتوں میں عام بچوں سے کم ضرور ہوتے ہیں لیکن ذرا سی محنت، توجہ اور جسمانی ورزش سے انہیں ایک اچھی زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔