ٹوکیو (مشرق نیوز) جاپان نے پارکنسن بیماری اور ہارٹ فیل کے علاج کیلئے سٹیم سیل پر مبنی نئی تھراپیز کی منظوری دیدی ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی پیشرفت سمجھی جا رہی ہے، توقع ہے کہ یہ علاج آئندہ چند ماہ میں مریضوں کیلئے دستیاب ہو گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپانی دوا ساز کمپنی سومیتومو فارما نے بتایا ہے کہ اسے پارکنسن کے علاج ’امچیپری‘ کی تیاری اور فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔ اس علاج میں سٹیم سیلز کو مریض کے دماغ میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ خراب ہو چکے خلیات کی جگہ نئے خلیات کام کر سکیں۔
اسی طرح جاپان کی وزارت صحت نے دل کے مریضوں کیلئے ’ری ہارٹ‘ نامی علاج کی بھی منظوری دی ہے جسے سٹارٹ اپ کمپنی کوئیرپس نے تیار کیا ہے، یہ خاص خلیاتی شیٹس دل میں نئی خون کی نالیاں بنانے اور دل کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ دونوں علاج اس سال گرمیوں تک مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتے ہیں اور یہ دنیا کے پہلے تجارتی طبی علاج ہوں گے جو آئی پی ایس سیلز پر مبنی ہوں گے۔ آئی پی ایس سیلز کی تحقیق کے بانی جاپانی سائنس دان شنیا یاماناکا کو 2012ءمیں نوبیل انعام دیا گیا تھا، یہ خلیات جسم کے کسی بھی قسم کے خلئے میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پارکنسن کی نئی دوا پروڈوڈوپا بیماری میں مبتلا تقریباً 1000 افراد کو NHS پر دستیاب ہوگی۔ جاپان کے وزیر صحت کینیچیرو یوینو نے کہا ہے کہ امید ہے اس پیشرفت سے نہ صرف جاپان بلکہ دنیا بھر کے مریضوں کو فائدہ ہو گا۔
رپورٹس کے مطابق کلینیکل تحقیق کے دوران 7 پارکنسن مریضوں پر یہ علاج آزمایا گیا جن میں سے 4 کی علامات میں واضح بہتری دیکھی گئی جبکہ کسی بڑے مضر اثر کو نہیں دیکھا گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق پارکنسن ایک دائمی اعصابی بیماری ہے جو جسم کی حرکت کو متاثر کرتی ہے اور دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ افراد اس بیماری سے متاثر ہیں۔
موجودہ علاج صرف علامات کو کم کرتے ہیں مگر بیماری کو روک نہیں پاتے۔ نئی سٹیم سیل تھراپی کو ماہرین مستقبل میں پارکنسن کے علاج میں بڑی امید قرار دے رہے ہیں۔
پارکنسن کے علاج میں تاریخی پیشرفت، سٹیم سیل تھراپی کی منظوری


















