لاہور (انویسٹی گیشن سیل/ آصف مغل) مشرق ڈیجیٹل کی خبر پر ایکشن جنرل ہسپتال کا ڈسپنسر میاں حامد ندیم کی چغتائی پلس لیب اور آرتھوپٹسٹ عثمان یاسین کا اوپٹی کیئر کلینک سیل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق چغتائی پلس لیب ڈسپنسر میاں حامد ندیم ڈیوٹی ٹی بی ڈیپارٹمنٹ جنرل ہسپتال میں کرتا ہے۔ ”مشرق ڈیجیٹل“ کی خبر پر ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے سیل کر دیا گیا ہے اور اوپٹی کیئر کلینک عثمان یاسین آئی آوٹ ڈور میں ڈیوٹی کر رہا ہے۔ آرتھوپٹسٹ ہے اس کو بھی ہیلتھ کیئر کمیشن نے سیل کر دیا ہے۔ یہ دونوں ملازمین عرصہ دراز سے جنرل ہسپتال میں ملازمت کر ساتھ اپنا ذاتی کاروبار بھی چلا رہے تھے جنہوں نے جنرل ہسپتال میں آنے والے سادہ لوح افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ ہسپتال میں آنے والے مریض و لواحقین کو ورغلا کر اپنے لیب اور کلینک پر لے جاتے ہیں اور اپنی مرضی کی فیسیں لیتے تھے۔ یہ صورتحال ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ عوامی حلقے سوال کر رہے ہیں کہ ایم ایس کی ناک تلے ایسی بے ضابطگیاں اور خلاف قانون سرگرمیاں کیسے ہو رہی ہیں۔ سارا معاملہ علم میں ہوتے ہوئے ایم ایس جنرل ہسپتال ڈاکٹر فریاد نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ معلوم ہوا ہے جنرل ہسپتال کا ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین خود بھی غازی روڈ پر قائم الشفاءکلینک پر ڈیوٹی دیتے ہیں جس وجہ سے ہر کوئی اپنی مرضی کرتا ہے اور مریض و لواحقین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، اکثر سے ملازمین اپنی ڈیوٹی سے بھی غائب رہتے ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے سیکرٹری صحت عظمت محمود سے جنرل ہسپتال میں بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ جنرل ہسپتال سے ایم ایس کو فی الفور ہٹایا جائے اور کوئی ذمہ دار ایم ایس تعینات کیا جائے۔
مشرق ڈیجیٹل، کی خبر پر ایکشن، جنرل ہسپتال ملازمین کی ذاتی لیب اور اوپٹی کیئر کلینک سیل


















