ایران،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)شرائط میں نرمی،ایران مذاکرات سے پہلے امریکی ناکہ بندی کے مطالبے سے دستبردار، اگلے ہفتے پاکستان میں بات چیت کیلئے آمادہ ہو گیا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران نئی تجاویز میں ناکہ بندی کے فوری خاتمے سے دستبردار ،آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کرنے پر آمادہ ہے،پاکستان کے ذریعے امریکہ کو 14 نکاتی تجاویز بھیجی گئیں، تجاویز کے مطابق جوہری پروگرام و میزائل پروگرام بات چیت کا حصہ نہیں ہو گا۔
وال سٹریٹ جنرل نے کہا ایران نے حملے روکنے کی ضمانت اور محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر بات چیت کی پیشکش کردی،پابندیوں میں نرمی کے بدلے جوہری امور پر بعد میں گفتگو کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی نے کہا جنگ دوبارہ چھڑ سکتی ہے،کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کےلئے مکمل تیار ہیں،ماضی گواہ امریکہ کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا۔
بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی نے کہا امریکہ کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو مسلح افواج پوری طاقت کےساتھ مقابلہ کریں گی،دفاعی تیاری مکمل ہے ،دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کن و سخت جواب دیا جائےگا،سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کےساتھ کام کر رہے ہیں۔
ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے کہا امریکی ابھی خلیج فارس ، بحیرہ عمان میں بہت سے سبق سیکھیں گے، امریکی وزیر جنگ ناتجربہ کار و غیر تعلیم یافتہ ہے، جغرافیہ کے بارے کچھ نہیں جانتے،امریکی وزیر جنگ کو معلومات ہوتیں تو امریکی فوج کو دلدل میں نہ پھنساتا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے کہا مقاصد کے حصول تک تنازع سے نہیں نکل سکتے کیونکہ مسئلہ چند سالوں بعد دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے،ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، تہران کو نہ روکتے تو اسرائیل اور یورپ کے پرزے پرزے کیے جاچکے ہوتے۔
ٹرمپ نے کہا امریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کےلئے بحری قزاقوں جیسا کام کر رہی ہے،ایران کے جہازوں، گارکو اور تیل پر قبضہ کر رہے ہیں، بہت ہی منافع بخش کاروبار ہے، بحری قزاقوں کی طرح ہیں لیکن گیم نہیں کھیل رہے۔
شرائط میں نرمی،ایران ناکہ بندی کے فوری خاتمے سے دستبردار، اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کیلئے آمادہ


















