حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود شوگر انڈسٹری کو شدید ریگولیٹری دباو کا سامنا ہے: ذکا اشرف

لاہور (کامرس رپورٹر) چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چوہدری ذکاءاشرف نے کہا ہے کہ شوگر انڈسٹری پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد زرعی بنیادوں پر قائم دوسری بڑی صنعت ہے جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ شوگر سیکٹر زراعت، ٹرانسپورٹ، متعلقہ صنعتوں اور تھوک و پرچون مارکیٹوں میں سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی براہِ راست اور بالواسطہ کاروباری سرگرمیاں پیدا کرتا ہے جبکہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو تقریباً 300 ارب روپے کے براہ راست و بالواسطہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔پیر کے روز پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے میڈیا کو شوگر سیکٹر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے تاہم اس کے باوجود شوگر انڈسٹری کو شدید ریگولیٹری دباو کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے کئی بار شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ انہوں نے بتایا کہ چینی کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد حصہ جو کمرشل اور صنعتی شعبوں میں استعمال ہوتا ہے مکمل طور پر ڈی ریگولیٹڈ ہے تاہم گھریلو استعمال کیلئے چینی کی قیمتوں اور فروخت کے نظام پر اب بھی حکومتی کنٹرول موجود ہے جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے ایکس مل قیمت کا تعین، ادائیگیوں کے اوقات مقرر کرنا اور سزاوں کا تعین شامل ہے۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ شوگر انڈسٹری بگاس کے ذریعے مقامی توانائی پیدا کر رہی ہے اور اضافی بجلی کی پیداوار کے باعث ایک ذیلی سٹیل انڈسٹری بھی وجود میں آچکی ہے۔ اس اضافی توانائی کو دیگر صنعتی مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چوہدری ذکاءاشرف نے مزید کہا کہ گاڑیوں میں بطور ایندھن ایتھانول کے استعمال اور پٹرول میں اس کی آمیزش کی پالیسی ملک کے توانائی کے نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ برازیل اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی پیٹرول میں بایو ایتھانول کی 20 فیصد آمیزش کی صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے مہنگی درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرکے اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایتھانول بلینڈنگ پالیسی 2006 اور 2009 میں تیار کی گئی تھی مگر بعد ازاں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مخالفت کے باعث اسے ختم کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس پالیسی کو دوبارہ متعارف کروائے تاکہ قومی معیشت کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملکی شوگر انڈسٹری بغیر کسی اضافی سرمایہ کاری کے سالانہ 1 کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں سے تقریباً 60 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کی جاسکتی ہے۔ اس طرح ملک سالانہ 4 ارب ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ حاصل کرسکتا ہے جبکہ ایتھانول کی برآمدات سے مزید ایک ارب ڈالر آمدنی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں، افغانستان اور چین پاکستانی سفید چینی کیلئے بڑی منڈیاں ہیں مگر بھارت ان منڈیوں سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگر ایکسپورٹ فیسلی ٹیشن سکیم اور آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے برآمدات کو فروغ دیا جائے تو قومی خزانے کیلئے قیمتی زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ گنے کے کاشتکاروں کو بہتر قیمت اور بروقت ادائیگیوں کے باعث کاشتکاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور رواں سال گنے کی فصل بھی اچھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں چینی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کرشنگ سیزن کے آغاز میں 2 لاکھ 71 ہزار ٹن چینی کا ذخیرہ موجود تھا جبکہ 25 مارچ 2026ءتک تقریباً 75 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوچکی ہے۔ چند ملوں میں کرشنگ جاری رہنے کے باعث امکان ہے کہ مجموعی پیداوار 77 لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی جبکہ ایک لاکھ ٹن چینی چقندر سے بھی حاصل ہوگی۔اس طرح کرشنگ سیزن کے اختتام تک ملک میں چینی کا مجموعی ذخیرہ تقریباً 80 لاکھ 71 ہزار ٹن تک پہنچ جائے گا جبکہ 13 ماہ کی ملکی کھپت تقریباً 70 لاکھ 20 ہزار ٹن ہے۔ اس طرح ملک میں تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی اضافی موجود ہوگی۔شوگر ملز ایسوسی ایشن کے رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ پیداواری لاگت میں اضافے اور اضافی ذخائر برقرار رکھنے کے باعث شوگر انڈسٹری کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر چینی کی برآمد کی اجازت دی جائے تاکہ اضافی اسٹاک کو عالمی منڈی میں فروخت کرکے ملک کیلئے قیمتی زر مبادلہ کمایا جاسکے۔