لاہور(آصف مغل /عکاسی: میاں شاہنواز )میو ہسپتال میں آنے والے شہری سہولیات کو ترس گئے ڈاکٹرز کا غیر اخلاقی رویہ استعمال کرنا معمول بن گیا، مریض و لواحقین کو ڈاکٹرز کو چیک کروانے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا عام بات ہو گئی، مریض و لواحقین کی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس کی اپیل روزنامہ مشرق کے سروے میں شہری افتخار ،عثمان ،مدثر ،غلام قادر ،سلمان اور اسد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میو ہسپتال سب سے بڑا مسئلہ ڈاکٹرز کا ہے جو ڈاکٹرز نہیں فرعون ہیں انسان کو انسان نہیں جانور سمجھا جاتا ہے میو ہسپتال کے ڈاکٹرز مریض و لواحقین چھوت کی بیماری کی ماند سمجھتے ہیں گھنٹوں انتظار کرواتے پھر اپنی پرائیویٹ کلینک پر علاج معالجہ کے لئے زور دیتے ہیں ساتھ یہ بھی کہتے ہیں ادھر ہمارے پاس ٹائم نہیں ہوتا جبکہ ہسپتال کے اندر بھی مبینہ طور اپنے ذاتی مریض علاج کرتے ہیں جس کو نہ کوئی دیکھنے والا اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے۔ دوسری جانب اگر بات کی جائے ہسپتال میں آتے ہی وہیل چیئر اور سٹریچر کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ تر تو خراب ہوتے ہیں اگر ٹھیک بھی ہو تو آسانی سے نہیں ملتے، اس کیلئے ہسپتال کے سٹاف کو 50،100 کی چائے پانی دئیے بغیر نہیں ملتے غریب آدمی جائے تو کہاں جائے اگر غریب آدمی نے پرائیویٹ ہی علاج کروانا ہوتا ہے تو وہ سرکاری ہسپتال کیوں آتے ہیں یا پھر سرکاری ہسپتال بنائے کیوں گئے ہیں ہسپتال انتظامیہ صرف نام کی ہے کوئی بھی اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہا بس ہر بندا یہاں بیٹھا ہے کہ شہریوں کو لوٹنا کیسے ہے مریض و لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں پر نگرانی کی ضرورت ہے ڈاکٹرز انسان کو انسان نہیں جانور سمجھتے ہیں۔
ایم ایس میوہسپتال ڈاکٹر عبدالمدبر سے گفتگو کیلئے رابطہ نہ ہوسکا
لاہور(ہیلتھ رپورٹر سے) اس خبر کے حوالے سے ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر عبدالمدبر سے رابطہ کیا گیا مگر رابطہ نہ ہو سکا، اگر موصوف اپنا موقف دینا چاہیں تو رابطہ کر سکتے ہیں ادارہ من و عن شائع کریگا۔
میوہسپتال ، سہولیات ناپید، ڈاکٹرز کا غیراخلاقی رویہ ، مریضوں کو گھنٹوں انتظار کرانا معمول



















