لاہور(قاضی ندیم اقبال)وفاقی حکومت نے صوبوں سے ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل کئے جانے والے منصوبوں کی رپورٹ طلب کر لی۔جن کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27ءکے وفاقی بجٹ میں صوبوں کے شیئر کے معاملات طے کرنے کے علاوہ مذکورہ پروگرامز کو مکمل کرنے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کی جائیگی۔پلاننگ اینڈ دویلپمنٹ ڈویلپمنٹ پنجاب اور صوبائی محکمہ خزانہ کے مصدقہ ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون کے ساتھ ہی بجٹ تیار کرتی ہیں۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کام کا آغاز کر چکی ہے جبکہ وفاقی بجٹ تیار کرنے کیساتھ ساتھ دیگر حوالوں سے بھی ورلڈ بینک حکام سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے کیونکہ پاکستان میں وفاقی حکومت کی وساطت سے اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اپنے طور پر کئی ترقیاتی منصوبے ورلڈ بینک کے تعاون کے ساتھ مکمل کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر زراعت، ہاوسنگ، انفراسٹرکچر کی فراہمی سمیت دیگر حوالوں سے ایسے ترقیاتی منصوبے جو عالمی مالیاتی ادارہ کی وساطت سے جاری ہیں، ان کے موجودہ سٹیٹس سے آگاہ کیا جائے تاکہ مستقبل کے فیصلے کرتے وقت عوامی مالایاتی انتطام، اور سروس کے حوالے سے خود احتسابی عمل کے علاوہ عالمی مالیاتی بینک کی مالیاتی شمولیت کے عنصر کا بغور جائزہ لیکر مستقبل کے اہداف کو تعین کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق ”Disburment Under World Bank Funded Projects“ کی بابت رپورٹ اکنامک افیئرز ڈویژن کے روبرو پیش ہونے کے بعد ہی آئندہ مالی سال 2026-27ءکے وفاقی بجٹ میں صوبوں کے شیئر کے معاملات طے کرنے کے علاوہ مذکورہ پروگرامز کو مکمل کرنے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کی جا سکے گی۔
صوبوں سے ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل کئے جانیوالے منصوبوں کی رپورٹ طلب


















