لاہور (خبرنگار) متنازعہ دستاویزات کے ذریعے نقشہ منظوری کے عمل میں بلدیہ عظمیٰ لاہور کو گمراہ کرنے کا ایک سنجیدہ معاملہ سامنے آیا ہے جہاں بنک سکوائر انارکلی کے علاقے میں 2 کنال اراضی پر تجارتی سرگرمیوں کے قیام کی آڑ میں مبینہ طور پر جعلی کاغذات جمع کروانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کیلئے ایک فرضی رجسٹری تیار کی گئی جس میں ملکیت احسن اقبال کے نام ظاہر کی گئی تاہم ریونیو ریکارڈ اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے اس زمین کو پادری کی ملکیت قرار دیتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ لاہور کو دھوکہ دیتے ہوئے اسی مبینہ جعلی رجسٹری کی بنیاد پر نقشہ منظور کروانے کی کوشش جاری ہے جو نہ صرف انتظامی نظام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ کیس اس وقت بلدیہ عظمیٰ کے شعبہ پلاننگ میں زیر کارروائی ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق مذکورہ کیس بلدیہ عظمیٰ لاہور کی آئندہ لائحہ عمل کے تعین میں کلیدی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ اس امر کا فیصلہ اسی کیس کی روشنی میں متوقع ہے کہ آیا مستقبل میں اس نوعیت کے کیسوں کی حوصلہ شکنی کی جائیگی یا جعلسازی کے ذریعے نظام کو چکمہ دینے والوں کیلئے مزید راہیں کھلیں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ذمہ داران کو نہ صرف بے نقاب کیا جائیگا بلکہ انکے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائیگی تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ دوسری جانب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر اس نوعیت کی جعلسازی کو بروقت نہ روکا گیا تو نہ صرف بلدیہ عظمیٰ لاہور کے ریگولیٹری نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سرکاری زمینوں اور نجی املاک کے تنازعات میں اضافہ اور شہری منصوبہ بندی کے عمل میں بے قاعدگیاں جنم لے سکتی ہیں جو بالآخر شہری ڈھانچے کے بگاڑ کا باعث بنیں گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس معاملے میں پیشرفت آئندہ چند روز میں متوقع ہے جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ متعلقہ ادارہ اس حساس نوعیت کے کیس کو کس انداز میں منطقی انجام تک پہنچاتا ہے۔
بلدیہ عظمیٰ،تجارتی سرگرمیوں کی آڑ میں جعلی کاغذات جمع کرانے کا انکشاف


















