تھانہ ملت پارک کی نئی عمارت میں منتقلی سے شہریوں کو مشکلات

لاہور (کرائم رپورٹر) تھانہ ملت پارک کو شریف پارک کے قریب پرانی عمارت سے نئی لوکیشن پر منتقل کئے جانے کے بعد شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ علاقے میں جرائم کی صورتحال اور پولیس کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔مقامی آبادی کے مطابق تھانے کی سابقہ لوکیشن آبادی کے عین وسط میں ہونے کے باعث سائلین کو فوری رسائی حاصل تھی تاہم نئی جگہ منتقلی کے بعد نہ صرف فاصلہ بڑھ گیا بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور معذور ،بوڑھوں اور خواتین کیلئے شکایت درج کروانا بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں پولیس تک فوری رسائی نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس کے باعث کئی وارداتوں میں ملزمان باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔ حکومت اور ذمہ داران اعلیٰ افسران کو چاہئے تھا کہ تھانہ یہاں آبادی کے قریب ہی کہیں منتقل کرتے ان کی وجہ سے پہلے کافی خود کو محفوظ سمجھتے تھے خاص کر جہاں تھانہ تھا وہاں اب اندھیرے چھائے ہیں جس کے باعث وہاں سے گذرتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے ،پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ ملت پارک کی حدود میں رواں سال مختلف نوعیت کے جرائم رپورٹ ہوئے جن میں،چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں،موٹر سائیکل و گاڑی چوری،منشیات فروشی،غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات شامل ہیں،اعداد و شمار کے مطابق درجنوں مقدمات درج کئے گئے متعدد اشتہاری و عادی ملزمان گرفتار کئے گئے،منشیات (چرس، آئس)، شراب اور اسلحہ برآمد کیا گیا،پولیس کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ موثر گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں،پولیس حکام کے مطابق رواں سال:مختلف کارروائیوں میں کئی ملزمان کو گرفتار کیا گیااشتہاری مجرمان کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا،منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے چھاپے مارے گئے،ذرائع کا کہنا ہے کہ کالی مسیح سمیت بعض گروہ اب بھی متحرک ہیں اور مختلف علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بعض مخصوص مقامات پر منشیات فروشی تاحال جاری ہے،رات کے اوقات میں مشکوک سرگرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، گنج بخش روڈ پر اور اسکے قریب شکایات ہیں کہ شراب ،ہیروئن فروخت ہو رہی ہے ان کے خلاف کافی مقدمات بھی درج ہیں اسی طرح کرم آباد ،ملت پارک میں منشیات ،کرم آباد کے ایریا میں ہیروئن،اور منشیا ت فروش کے بارے میں شکائیت کی گئی ہے کہ عرصہ دراز سے چرس فروخت کر رہے ہیں اس کے علاوہ عیسائی محلہ میں دیسی زہریلی شراب کی فروخت کرنے بارے کہا جاتا ہے شراب فروش اپنے جاننے والے کے علاوہ کسی کو شراب فروخت نہیں کرتے اور یہاں جتنے بھی منشیات فروشی یا شراب کا دہندہ کرتے ہیں ان کو ایک شخص سپوٹ کرتا ہے پکڑے جانے پر وہی تھانہ میں جاتا ہے اور متعلقہ جو بھی تفتیشی ہو اس معاملات طے کر کے اپنا کمیشن نکال لیتا ہے آویہ چوک کے قریب ایک خاتون کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ نہ صرف قحبہ خانہ چلاتی ہے بلکہ منشیات فروشی جیسے مکرہ کام میں بھی ملوث ہے اس کے خلاف متعلقہ تھانہ کی پولیس نے جب بھی ایکشن لیا وہ الٹا ان پر الزامات لگا کر پریشانی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جبکہ ملت روڈ پر دو افراد جواءکرواتے ہیں ان کی باقائدہ بک چلتی ہے،شہریوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس ان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے اور مستقل بنیادوں پر آپریشن کئے جائیں،پولیس گشت میں مزید بہتری کی ضرورت ہے،پولیس کے مطابق،تھانے کی منتقلی بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے کی گئی،جدید ریکارڈ سسٹم اور بہتر تفتیشی ماحول فراہم کیا گیا ہے،گشت کے نظام کو مزید فعال بنایا گیا ہے،جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کے تعاون کے بغیر جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، شہری بروقت اطلاع دیں تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔شہریوں نے کہا کہ پولیس کی کچھ کارکردگی بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن تھانے کی دوری نے ہمیں مشکلات میں ڈال دیا ہے، حکومت کو اس پر نظرثانی کرنی چاہیے،تھانہ ملت پارک کی منتقلی نے جہاں انفراسٹرکچر میں بہتری لائی، وہیں سائلین کےلئے رسائی کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔ جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے مزید موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔