سولر بزنس کے نام پر اربوں کا فراڈ بے نقاب، ملازمین کے نام پر اکاونٹس، عوام کی جمع پونجی ہضم

لاہور (شوکت مروت) پاکستان میں بجلی کے بڑھتے بحران اور حکومتی سطح پر سولر پینلز پر ڈیوٹی زیرو کئے جانے کے بعد جہاں اس شعبے میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، وہیں اس کاروبار کی آڑ میں ایک خطرناک اور منظم فراڈ نیٹ ورک بھی سرگرم ہو گیا ہے، جو شہریوں سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے ہتھیانے میں مصروف ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک بھر میں محدود تعداد میں امپورٹرز چین سے سولر پینلز درآمد کرتے ہیں جبکہ مقامی سطح پر ڈیلرز کی تعداد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں جا پہنچی ہے۔ کاروباری طریقہ کار کے تحت ڈیلرز امپورٹرز کو پیشگی ادائیگی کرتے ہیں، جس کے بعد مال کراچی پورٹ پر پہنچ کر مختلف شہروں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ بڑے ڈیلرز مزید چھوٹے ڈیلرز کو سامان فراہم کرتے ہیں، یوں ایک مکمل سپلائی چین قائم ہوتی ہے تاہم اسی نظام میں ایک خطرناک خلا ءکا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نے دھوکہ دہی کا نیا جال بچھا رکھا ہے۔ ان عناصر کی جانب سے بینک اکاونٹس اپنے ملازمین کے نام پر کھلوائے جاتے ہیں، جبکہ ان اکاونٹس کا مکمل کنٹرول اصل ڈیلر یا گروہ کے پاس ہوتا ہے۔ حیران کن طور پر نہ صرف چیک بکس اور اے ٹی ایم کارڈز بلکہ متعلقہ موبائل نمبرز بھی انہی ملازمین کے نام پر رجسٹرڈ کروائے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فراڈیے مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے سولر پینلز کے ریٹس جاری کرتے ہیں اور پرکشش آفرز کے ذریعے ڈیلرز و خریداروں کو متوجہ کرتے ہیں۔ آرڈر موصول ہونے پر ایڈوانس رقم متعلقہ اکاونٹس میں منتقل کروا لی جاتی ہے، مگر جیسے ہی بڑی رقم جمع ہو جاتی ہے، ملزمان موبائل فون بند کرکے غائب ہو جاتے ہیں۔ فراڈ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ افراد جب قانونی کارروائی کیلئے آگے بڑھتے ہیں تو ان کے پاس صرف اس ملازم کے نام پر رجسٹرڈ بینک اکاونٹ اور موبائل نمبر ہوتا ہے، جو درحقیقت اس پورے کھیل سے لاعلم ہوتا ہے۔ کئی کیسز میں یہ بے گناہ ملازمین نہ صرف تفتیش کا سامنا کرتے ہیں بلکہ قانونی پیچیدگیوں میں بھی پھنس جاتے ہیں، جبکہ اصل ملزمان باآسانی قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ بعض فراڈیے دفاتر بھی انہی ملازمین کے نام پر کرایہ پر حاصل کرتے ہیں، تاکہ اپنی شناخت کو مزید چھپا سکیں اور وقت آنے پر تمام ذمہ داری اسی ملازم پر ڈال کر فرار ہو جائیں۔ ماہرین کے مطابق سولر پینلز کا تقریباً 99 فیصد کاروبار سوشل میڈیا، خصوصاً واٹس ایپ کے ذریعے ہو رہا ہے، جہاں نہ تو کوئی موثر ریگولیشن موجود ہے اور نہ ہی لین دین کی مناسب نگرانی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پلیٹ فارم فراڈ کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔ عوامی و کاروباری حلقوں نے حکومت پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، بینکنگ اور موبائل سم رجسٹریشن کے نظام کو سخت کیا جائے، اور سولر بزنس کو باقاعدہ ریگولیٹ کرکے ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاو¿ن کیا جائے جو قومی معیشت اور شہریوں کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سولر انرجی جیسے امید افزا شعبے پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے، اور صاف توانائی کی طرف بڑھتا ہوا یہ سفر بداعتمادی اور نقصان کی نذر ہو جائیگا۔