پاکستان،ازبکستان کو باہمی تجارت کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ہوگا: گورنر تاشقند

لاہور (کامرس رپورٹر) تاشقند ریجن کے گورنر زویر توئیرووچ مرزایوف نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معاشی تعاون کو نمایاں طور پر بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجو دہ 445.8 ملین ڈالر کی تجارت ان کی حقیقی صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتی۔ انہوں نے زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، سیاحت، لاجسٹکس اور صنعتی سرمایہ کاری کے شعبوں میں مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ازبکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے تقریباً چھ فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملک بھر میں قائم خصوصی اقتصادی زونز بین الاقوامی سرمایہ کاروں، خصوصاً پاکستانی کاروباری افراد کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ گورنر مرزایوف لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک کاروباری اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جہاں ان کی قیادت میں ازبکستان کے 20 رکنی اعلیٰ سطحی سرکاری وفد نے شرکت کی۔ ازبکستان کے پاکستان میں سفیر علی شیر تختایوف خاکیمووچ بھی وفد کے ہمراہ تھے۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس دورے کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ادارہ جاتی اور کاروباری روابط مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، سارک چیمبر کے نائب صدر میاں انجم نثار اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین فردوس نثار، رانا شعبان اختر، رانا محمد نثار، افتخار احمد، عامر علی، چوہدری محسن بشیر، سید حسن رضا، وقاص اسلم اور علی عمران بھی موجود تھے۔ ازبک وفد میں ضلع اخنگران کے گورنر بہرام جان تورایوف، ضلع کویی چرچک کے گورنر اکمل ارسلانوف، تاشقند ریجن چیمبر آف کامرس کے علاقائی شعبے کے سربراہ عبدالرصول عبدالرشیدووچ، سرمایہ کاری، صنعت و تجارت کے نائب سربراہ امید عبیداللہ ایوف، گورنر کے مشیر دلشود رسولوف، گورنر کے معاون ہرشید نورالدین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف ازبک کمپنیوں کے نمائندگان شامل تھے۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے جس کی درآمدات 35 ارب ڈالر سے زائد ہیں، جو پاکستانی برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کیلئے بڑے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد میں شامل شعبے جیسے لائیو سٹاک، ڈیری، چاول، ٹیکسٹائل، لیدر، اون، تعمیراتی سامان، سپورٹس گڈز اور طبی آلات پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں سے مطابقت رکھتے ہیں، جس سے باہمی تعاون کے وسیع امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2024-25ءکے دوران پاکستان کی چاول کی برآمدات تقریباً 3.3 ارب ڈالر جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائیو سٹاک پاکستان کی معیشت کا اہم حصہ ہے جو جی ڈی پی میں تقریباً 15 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ دودھ کی پیداوار 72 ملین ٹن سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے ڈیری پراسیسنگ اور زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔