بڑھتا درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی، پانی کی کمی، پنجاب بھر میں فش فارمز مسائل سے دوچار

لاہور (میاں ذیشان) صوبائی دارالحکومت لاہور اور اس کے گردونواح میں قائم فش فارمز پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، آلودگی، پانی کی دستیابی میں کمی اور حکومتی نگرانی کے غیر موثر نظام کے باعث شدید مسائل سے دوچار ہیں جس کے نتیجے میں مچھلی کی پیداوار، افزائش اور معیار مسلسل متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم محکمہ فشریز پنجاب کی جانب سے صورتحال پر موثر کنٹرول اور بروقت اقدامات نہ کئے جانے پر فارمنگ سیکٹر میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے دوران متعدد فش فارمز میں پانی کا درجہ حرارت مچھلی کی افزائش کیلئے موزوں حد سے تجاوز کر گیا، جس سے پانی میں آکسیجن کی سطح کم ہوئی، بیماریوں کے پھیلاﺅ اور مچھلی کی اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، مگر محکمہ فشریز کی جانب سے نہ تو باقاعدہ ہنگامی مانیٹرنگ کا موثر نظام فعال کیا جا سکا اور نہ ہی متاثرہ فارمرز کو بروقت تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب کے متعدد فش فارمز کو معیاری مچھلی کے بیج کی بروقت فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جس کے باعث فارمرز مہنگے داموں نجی ذرائع سے بیج خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض اوقات ناقص معیار کے بیج کے باعث پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ فشریز کی جانب سے پانی کے معیار کی مسلسل جانچ، صنعتی و زرعی آلودگی کی روک تھام اور فش فارمز میں پانی کے نمونوں کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ متعدد علاقوں میں آلودہ پانی کے استعمال کے باوجود موثر کارروائیاں دیکھنے میں نہیں آ رہیں۔ مزید برآں مچھلی کی کولڈ چین، محفوظ پیکنگ، ٹرانسپورٹ اور منڈیوں تک بروقت ترسیل کیلئے بھی جدید انفراسٹرکچر کی کمی برقرار ہے، جس کے باعث فارمرز کو اضافی مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ منافع کا بڑا حصہ بیوپاریوں اور درمیانی افراد کے پاس چلا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور آلودگی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے محکمہ فشریز نے اگرچہ مختلف منصوبوں اور تربیتی پروگراموں کا اعلان کیا، لیکن ان پر موثر عملدرآمد نہ ہونے سے فش فارمنگ کا شعبہ اپنی حقیقی استعداد کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔ فارمرز کا موقف ہے کہ اگر پانی کے معیار کی جدید بنیادوں پر نگرانی، معیاری فش سیڈ کی بروقت فراہمی، بیماریوں کی روک تھام، تحقیقی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی کے مربوط انتظامات کو یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں مقامی سطح پر مچھلی کی پیداوار مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات صارفین اور اس شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) اس خبر کے حوالے سے ترجمان محکمہ ایکوا کلچر اینڈ فشریز پنجاب محمد عثمان سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے محکمہ کے متعدد سینئر افسران سے رابطہ کیا ہے تاہم کسی بھی متعلقہ افسر نے فی الوقت اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف یا وضاحت جاری کرنا مناسب نہیں سمجھی۔ محمد عثمان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی محکمہ کے کسی مجاز افسر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی موقف، وضاحت یا ردعمل موصول ہوگا، وہ فوری طور پر اسے آپ کے ساتھ شیئر کر دیں گے تاکہ محکمہ کا موقف بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکے۔محکمہ ایکواکلچر اینڈ فشریز پنجاب کے افسران یا ترجمان اس حوالے سے اپنا موقف یا وضاحت دینا چاہیں تو مشرق اخبار کے صفحات حاضر ہیں۔