لاہور (قمر عباس نقوی/ تصاویر: واحد شہزاد ) پی ایچ اے لاہور شعبہ فنانس کا بڑا سکینڈل بے نقاب کروڑوں روپے بقایاجات کی ادائیگی عرصہ دراز سے التو کا شکار ہونے کے ساتھ سرکاری فائلیں غائب ہونے کا انکشاف ،متاثرہ شہری کا ایم ڈی پی ایچ اے سے انصاف کی عدم فراہمی پر صوبائی وزیر ہاﺅسنگ کو داد رسی کی خاطر درخواست۔ صوبائی دارالحکومت میں ایک نیا مالی و انتظامی سکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں ایک نجی کنٹریکٹر کے کروڑوں روپے کے بقایاجات کی ادائیگی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ متعلقہ سرکاری فائلوں کے مبینہ طور پر غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ شہری کی جانب سے سیکرٹری ہاو¿سنگ کو بھیجی گئی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تمام مطلوبہ دستاویزات اور بقایاجات کی تفصیلات وقت پر جمع کرا دی تھیں لیکن اس کے باوجود عرصہ دراز سے کروڑوں روپے کے بقایاجات کی ادائیگی التوا کا شکار ہے جبکہ اس کیس کی فائلز بھی پی ایچ اے لاہور کے شعبہ فنانس کے دفتر سے متعلق اہم فائلوں کے غائب ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے شہری نے مزید بتایا کہ فائلوں کا اچانک غائب ہونا ممکنہ بدعنوانی یا اندرونی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتا ہے جس پر ، متعلقہ حکام کو بارہا ادائیگی کے احکامات جاری ہونے کے باوجود نہ تو واجبات ادا کیے گئے اور نہ ہی فائلوں کی بازیابی کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام کیا گیا اس صورتحال نے سرکاری نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ متاثرہ کنٹریکٹر کے مطابق، وہ کئی ماہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ اس تاخیر کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے مزید شکایت میں بتایا گیا کہ اس میں پی ایچ اے کے افسران جس میں ملک ریاض احمد ڈی ڈی سی ندیم احمد خان ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ظفر یٰسین نے کروڑوں کی بلز کی ادائیگی میں تاخیر اور فائلز کو غائب کیا تھا شہری کا کہنا ہے کہ فائلوں کے غائب ہونے اور ادائیگی میں تاخیر جو کہ ایک بڑے پیمانے کا انتظامی و مالی اسکینڈل ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے شہزاد عالم خان نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کے بقایاجات فوری طور پر ادا کئے جائیں۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام اور وزیر اعلیٰ شکایت سیل کو بھی ارسال کی جا چکی ہیں تاہم تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ایم ڈی پی ایچ اے میرے بقایا بلوں پر کارروائی کرنے کا پابند تھا تاہم یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ ان واضح ہدایات کے باوجود ابھی تک مجھے ایک بھی ادائیگی نہیں کی گئی کئی ماہ ہوچکے ہیں کہ میں مسلسل اس کیس کی پیروی کر رہا ہوں لیکن بدقسمتی سے آج تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ اس طویل تاخیر نے مجھے کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈی ایف پی ایچ اے احمد سعید منج سے موقف لینے کی خاطر ان سے رابطہ کرنے کی خاطر ان کے دفتر گئے ملاقات نہ ہو سلکی ان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انکی جانب سے موقف نہیں دیا گیا۔
پی ایچ اے شعبہ فنانس،کروڑوں کے بقایاجات کی سرکاری فائلیں غائب، بڑا مالی سکینڈل بے نقاب


















