لاہور ( اپنے رپورٹر سے )حکومت پنجاب نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ا میڈیکل سپریننڈنٹ لیڈی و لنگڈن ہسپتال ڈاکٹر فر ح انعام سربراہ گائنی یونٹ ڈاکٹر عظمیٰ حسین کو معطل کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق متحرک ہو گے سیکرٹری صحت عظمت محمود کو سخت نوٹس لینے کی خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔ اور اپنے جاری بیان میں کہا کہ مریض ہمارے لئے قابل احترام لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں اخلاق سے گری ہوئی حرکت انسانیت کی تذلیل ہے۔ اس کے مرتکب افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں 5 PGR.s جی آرز جبکہ دو چارج نرسز کو بھی معطل کر کے ہیڈکوارٹرز رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا۔ لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی اقرا زاہد، چارج نرس، فوزیہ رشید، چارج نرس اور حسیب الروف، کک (باورچی) کو پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے معطلی کے بعد فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا۔ ایک ڈبلیو ایم او ڈاکٹر اقرا حفیظ کی خدمات کو محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو واپس (Repatriate) کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آمنہ رشید پی جی آر (PGR) کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کو لیول-III پروگرامز کے 'پالیسی اینڈ پروسیجر مینول (PPM)' کی شق 13.2 کے تحت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری طور پر اگلے احکامات تک معطل کرکے ہیڈکوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہسپتالوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں غفلت سامنے آنے پر فوری طور پر ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود نے کہا کہ اس طرح کے مبینہ اقدامات طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں، جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز کے تحت سختی سے ممنوع ہیں۔
لیڈی ولنگڈن ہسپتال ویڈیو کیس، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی معطل


















