عالمی منڈی کے مطابق پٹرول سستا نہ کرنا بہت بڑا ظلم ہے ،شہری

لاہور (میاں ذیشان/ عکاسی: شاہنواز) وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے اعلان کے باوجود لاہور کے مختلف علاقوں میں کیے گئے عوامی سروے سے معلوم ہوا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد اس فیصلے سے مطمئن دکھائی نہیں دی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاﺅ اور حکومت کو حاصل مالی گنجائش کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ کرنا عوامی توقعات کے برعکس ہے جس کے باعث مہنگائی کا دباﺅ بدستور برقرار رہیگا اور عام آدمی کو کسی قسم کا ریلیف نہیں مل سکے گا۔ سروے کے دوران گلبرگ، اچھرہ، جوہر ٹاﺅن، مغلپورہ اور شاہدرہ سمیت مختلف علاقوں کے شہریوں نے اپنی آراءکا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ وقتی طور پر مزید بوجھ ڈالنے سے تو بچا سکتا ہے، مگر اس سے روزمرہ استعمال کی اشیائ، ٹرانسپورٹ کرایوں اور کاروباری اخراجات میں پہلے سے موجود مہنگائی ختم نہیں ہوگی۔ گلبرگ کے آصف نے کہا کہ حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی تو عالمی قیمتوں میں نسبتاً کمی کا فائدہ براہ راست صارفین تک پہنچاتی، کیونکہ موجودہ قیمتوں نے پہلے ہی متوسط طبقے کا بجٹ شدید متاثر کر رکھا ہے۔ جوہر ٹاﺅن کے سبط حسین کا کہنا تھا کہ پٹرول مہنگا نہ ہونے کے باوجود مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بلند ہیں، دکاندار ہر چیز کی قیمت ٹرانسپورٹ اخراجات کا جواز بنا کر بڑھا دیتے ہیں، اسلئے صرف قیمتیں برقرار رکھنے سے عوام کو عملی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ مغل پورہ کے تاجر رانا وقاص احمدنے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں پر ایندھن کے اخراجات براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اگر حکومت قیمتوں میں چند روپے بھی کمی کرتی تو سامان کی ترسیل کے اخراجات کم ہوتے اور اس کے مثبت اثرات مارکیٹ تک پہنچ سکتے تھے۔ اچھرہ کے رکشہ ڈرائیور سلیم نے کہا کہ روزانہ کی آمدنی پہلے ہی محدود ہے، جبکہ گاڑی کی مرمت، پرزہ جات اور دیگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اسلئے قیمتیں برقرار رہنے کو وہ ریلیف تصور نہیں کرتے بلکہ حقیقی ریلیف قیمتوں میں کمی سے ہی ممکن ہے۔ شاہدرہ کے یوسف باجوہ نے کہا کہ تنخواہیں اپنی جگہ برقرار ہیں لیکن بجلی، گیس، تعلیمی اخراجات اور روزمرہ ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں حکومت کی جانب سے پیٹرول سستا نہ کرنا عوامی امیدوں پر پورا نہیں اترتا۔ سروے میں شامل بیشتر شہریوں کا مشترکہ موقف تھا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جاتی تو ٹرانسپورٹ کرایوں، سبزیوں، پھلوں، دودھ، آٹے، تعمیراتی سامان اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی کی توقع پیدا ہوتی، جبکہ موجودہ فیصلے سے مہنگائی میں فوری کمی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ بعض شہریوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ قیمتیں برقرار رکھنے سے نئے اضافے کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے، تاہم عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت محسوس ہوگا جب حکومت پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور دیگر بنیادی شعبوں میں نمایاں کمی کر کے اس کے فوائد مارکیٹ تک منتقل کرانے کیلئے موثر نگرانی بھی یقینی بنائے، بصورت دیگر قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے کے بجائے صرف موجودہ مہنگائی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے مترادف سمجھا جائیگا۔