لاہور (سٹاف رپورٹر) جناح ہسپتال لاہور کے آنکولوجی یونٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر کوثر بانو نے کہا ہے کہ مائیلوما خون کے کینسر کی ایک سنگین قسم ہے جو اکثر خاموشی سے بڑھتی ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں مریض کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ ہڈیوں کے مستقل درد اور غیر معمولی کمزوری کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔پروفیسر ڈاکٹر کوثر بانو کے مطابق مائیلوما ہڈیوں کے گودے میں موجود پلازما سیلز کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں جسم میں غیر ضروری پروٹین بنتے ہیں اور ہڈیاں، گردے اور مدافعتی نظام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری آہستہ آہستہ جسم کو کمزور کرتی ہے اور اکثر مریض اس وقت ہسپتال پہنچتے ہیں جب مرض کافی آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مائیلوما کی عام علامات میں کمر اور ہڈیوں میں مسلسل درد، شدید تھکن، خون کی کمی، بار بار انفیکشن، وزن میں کمی اور گردوں کے مسائل شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں کیلشیم کی مقدار بڑھ جانے سے شدید پیاس، قبض اور ذہنی الجھن بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر کوثر بانو کے مطابق مائیلوما کی تشخیص کیلئے خون اور پیشاب کے خصوصی ٹیسٹ، بون میرو بایوپسی اور جدید امیجنگ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جن کے ذریعے بیماری کی درست تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ علاج کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر کوثر بانو کا کہنا تھا اگرچہ مائیلوما مکمل طور پر ختم ہونے والی بیماری نہیں، تاہم جدید طب میں دستیاب کیموتھراپی، ٹارگٹڈ تھراپی، امیونوتھراپی اور اسٹیرائیڈز کے ذریعے اسے طویل عرصے تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے جبکہ کچھ مریضوں میں اسٹیم سیل یا بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی موثر ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہڈیوں کی مضبوطی، درد میں کمی، خون کی کمی اور گردوں کے تحفظ کیلئے سپورٹو علاج علاج کا لازمی حصہ ہے۔ آخر میں پروفیسر ڈاکٹر کوثر بانو نے عوام سے اپیل کی کہ مائیلوما کے بارے میں آگاہی حاصل کریں، علامات کی صورت میں فوری طور پر مستند ماہرامراض خون یا آنکولوجسٹ سے رجوع کریں اور باقاعدہ فالو اپ کو یقینی بنائیں۔ بروقت تشخیص اور درست علاج سے مریض بہتر اور باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔
مائیلوما خاموش جان لیوا بیماری،بروقت تشخیص ناگزیر ہے: ڈاکٹر کوثر بانو


















