نوجوانوں میں نکوٹین پاوچ کے استعمال کا بڑھتا رجحان انتہائی خطرناک

لندن (مشرق نیوز) ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں نکوٹین پاوچ کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے سائنس دانوں کو تحقیق میں معلوم ہوا کہ جین زی میں ہر 25 میں سے ایک فرد نِکوٹین کی ٹکیا کا استعمال کرتا ہے۔

2022 میں 16 سے 24 برس کے عمر کے نوجوانوں میں ان ٹکیوں کا استعمال 0.7 فیصد تھا۔ محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت مجموعی طور پر تقریباً پانچ لاکھ لوگ یہ پاوچز استعمال کرتے ہیں (جو کہ 2020 کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے)۔

ہونٹ اور مسوڑھے کے درمیان رکھی جانے والی یہ ٹکیہ نشہ آور نکوٹین خارج کرتی ہے جو 20 سے 60 منٹ کے دوران خون کی باریک شریانوں کے ذریعے خون میں شامل ہوجاتی ہے۔ ماہرین (جو ان نشہ آور ٹکیا کی فروخت پر آج پابندی کا تقاضا کر رہے ہیں) کا کہنا تھا کہ ان ٹکیوں کی مقبولیت کی وجہ لوگوں کو مطلوب نکوٹین کے نشے میں ہے جو کہ سگریٹ اور تمباکو کے نقصانات سے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔