اسلام آباد: (بیورورپورٹ)سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں ہراسانی کےخلاف سخت نظام نافذ اور قانون پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دےدیا۔
جسٹس علی مظہر ،مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہاہراسانی برداشت کرنےوالا ادارہ اپنے تعلیمی مشن کی نفی کرتا ، طلبہ کو سکھایا جاتا طاقت بدعنوانی کا جواز اور سچائی پر خاموشی بہتر ہے، تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا سنگین زیادتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہاخواتین کی عزت، تحفظ اور خودمختاری ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے،تمام تعلیمی اداروں میں ہراسیت کے خلاف واضح پالیسی، موثر شکایتی نظام، قانون کے مطابق ان ہاوس انکوائری کمیٹیاں اورضابط اخلاق پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے،تعلیمی ادارے صرف درس گاہ نہیں بلکہ محفوظ ماحول بھی ہونا چاہئے۔
تعلیمی اداروں میں ہراسانی کےخلاف سخت نظام نافذ کرنے کاحکم



















