اپنا گھر سکیم کا اجرا،آسان قرض ،بجٹ میں بڑی سہولتیں دیں گے،وزیراعظم

اسلام آباد:(بیورورپورٹ) ملک کے غریب و متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کےلئے اپنا گھر سکیم کا باقاعدہ اجرا، وزیراعظم نے کہا عام آدمی کو چھت کی فراہمی ترجیح ہے ،سکیم کے تحت ایک کروڑ تک کا قرض آسان شرائط پر دستیاب ہو گا ، پہلے سال 50ہزار گھروں کا ہدف مقرر کردیا،4برسوں میں ہدف 5لاکھ گھروں کا ہو گا ، 10مرلے تک گھر تعمیر کئے جاسکیں گے ،فنانسنگ کا حجم 3.2کھر ب ہو گا ،قرض واپسی کی مدت 20برس ،پہلے 10سال مارک اپ 5پھرمارکیٹ کی شرح کے مطابق ہو گا ، سکیم کا اطلاق اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہو گا، تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ،سکیم پر عملدرآمد کا ہر مہینے خود جائزہ لوں گا،بجٹ میں بڑی سہولتیں دیں گے،ان خیالات کااظہار انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،چیک بھی تقسیم کیے گئے۔

شہبازشریف نے اپنا گھر سکیم کے تحت قرض حاصل کرنےوالے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاتقریب میں شرکت باعث مسرت ، عوام کو اپنا گھر فراہم کرنا کسی بھی حکومت اور ریاست کا بنیادی و مقدس فریضہ ہے ، پاکستان کی 24کروڑ آبادی میں سے بڑی تعداد اپنی چھت سے محروم ،تقریب انتہائی یادگار ہے ، سکیم کے اجراکےلئے بہت محنت کی گئی ،درپیش مسائل کونجی شعبے کی مشاورت و دیگر متعلقہ افراد ، حکام کے تعاون سے حل کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہاتقریب میں ڈرائیور غلام حسین کو بھی گھر بنانے کیلئے قرض ملا،بھر پور تعاون ،معاونت پروفاقی وزرا،گورنر سٹیٹ بینک کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہر مہینے سکیم کا جائزہ لوں گا تاکہ اگرکسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہو تو دور کیا جائے اور ادائیگیاں بروقت ہوں، اپنا گھر سکیم کے تحت قرض کے حصول کا طریقہ کار آسان بنایا،زیادہ قرضہ فراہم کرنےوالے بینکوں کو 14اگست کوقومی ایوارڈ دیا جائےگا ،کوتاہی کامظاہر ہ کرنےوالوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، آئندہ بجٹ میں بھی مختلف سکیموں کو شامل کیا جائے گا۔

شہبازشریف نے کہا اقدام سے نہ صرف تعمیراتی شعبہ بلکہ صنعت و تجارت میں بھی سرگرمی بڑھے گی ، معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوں گے، حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ، چند ماہ قبل ملک کے ممتاز برآمد کنندگان میں ٹرافیاں تقسیم کیں ،ملک کا عمومی سفیر بنایا ،2سال کے بلیو پاسپورٹ کا اجرا کیا۔

دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف سے وزیر ہاوسنگ میاں ریاض پیرزادہ نے ملاقات کی اورکم لاگت رہائشی منصوبوں پر پیشرفت اور لوگوں کو اپنے گھر کے حصول کیلئے رعایتی قرضوں کی فراہمی کے منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا،شہبازشریف نے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہالوگوں کو کم لاگت پر اپنی چھت فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیر صحت مصطفی کمال نے ملاقات کی اور ڈریپ کی لیبارٹریز کی ڈبلیو ایچ او سے سرٹیفیکیشن پر بریفنگ دی، وزیر اعظم نے صحت عامہ کے شعبے کی اصلاحات کےلئے سید مصطفی کمال ،ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

مزید برآں وزیر اعظم شہباز شریف سے سینیٹر آغا شاہزیب درانی اور رکن قومی اسمبلی انجم عقیل نے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ،سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنے کےساتھ خطے میں امن کے قیام کیلئے وزیر اعظم کی کوششوں پر کوخراج تحسین پیش کیا۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف سے یونیسیف کے وفد نے ملاقات کی ،شہباز شریف نے کہا بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہےں، پاکستان انسداد پولیو کو ترجیح سمجھتا ہے ،موذی مرض کے جلد مکمل خاتمے کیلئے پر عزم ہیں،سیسے (Lead) کے اثرات کی وجہ سے بچوں میں ذہنی و جسمانی نشوونما کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، سدباب ایک چیلنج ہے ،ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے،حکومت بین الاقوامی شراکت داروں کےساتھ تعاون سے سیسے کے اثرات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھاتی رہے گی۔

وفد کے اراکین نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آپ کی قیادت میں بچوں کے پولیو سمیت موذی امراض سے حفاظت کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں، پاکستان میں بچوں کی بیماریوں سے بچاو ،نشوونما کیلئے خطرات کے سدباب کیلئے اقدامات دیکھ کر خوشی ہوئی،وزیر اعظم کی قیادت میں حکومت صحت، تعلیم، نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی شعبے میں گراں قدر اقدامات اٹھا رہی ہے۔