عدالتی تعاون کا فروغ،پاکستان، ترکیہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) عدالتی تعاون کا فروغ،پاکستان، ترکیہ میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط، عدالتی اصلاحات میں تعاو ن،مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر بھی اتفاق ،دستخطی تقریب میں سپریم کورٹ، آئینی عدالت کے ججوں اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے اعلیٰ سطح وفد کے ارکان شریک ہوئے، تقریب کے آغاز میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں،دونوں ملکوں میں آئینی گورننس اوربنیادی حقوق کیلئے اہم ہے،ایم او یو کے ذریعے دونوں ممالک کی عدلیہ کو ملکر آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، ہمیں ایک دوسرے کے عدالتی تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے، باہم منسلک ہوتی دنیا میں عدالتی نظام الگ نہیں رہ سکتا، امید ہے مفاہمتی یادداشت دونوں ملکوں کےلئے مفید ثابت ہوگی،چیف جسٹس نے واضح کیا قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے عدالتی نظام کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،دوسری جانب چیف جسٹس آئینی عدالت ترکیہ قادر اوزکایا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دن پاکستان اور ترکیہ کےلئے بہت اہم ہے،پاکستان کے عدالتی نظام کو روشن اور مو¿ثر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان اور ترکیہ کے عدالتی نظام میں بہت سی قدریں مشترک ہیں، پاکستان آکر بہت خوشی ہوئی، دونوں ملکوں کے درمیان مثالی بھائی چارہ موجود ہے، عدالتی شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط کیا جانا چاہیے اور باہمی تجربات سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔