عمران کو ایک آنکھ سے 85فیصد نظر آنا بند،سپریم کورٹ کا معائنہ ،بچوں سے بات کرانے کا حکم

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)عمران خان کو ایک آنکھ سے 85فیصد نظر آنا بند،فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ پیش کردی ،سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کامعائنہ اور بچوں سے بات کرانے کا حکم دےدیا۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں بتایاعمران خان نے جیل میں طبی سہولیات پر عدم اطمینان کےساتھ آنکھوں کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہر ڈاکٹروں تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ،بانی پی ٹی آئی 2سال 4ماہ سے قید ، اکتوبر 2025 تک نظر 6/6 تھی بعد ازاں دھندلا دکھائی دینا شروع ہوا جو وقت کےساتھ بڑھتا گیا،دائیں آنکھ کی بینائی پہلے متاثر پھر کمزور ہونا شروع ہوئی،بلڈ کاٹ کابتایا توخاصے پریشان دکھائی دئیے،فرینڈ آف کورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران عمران خان آنکھوں سے مسلسل نکلنے والاپانی ٹشو پیپر سے صاف کرتے رہے۔

بانی پی ٹی آئی نے سکیورٹی و فراہم کردہ خوراک پر اظہار اطمینان تاہم طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا معائنہ ذاتی معالجین فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے،عمران خان نے بتایا زیر استعمال کمپاونڈ میں نگرانی کےلئے تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ، ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کے حصے تک ہے تاہم کمرے،سیل کے اندر کوئی کیمرہ نصب نہیں۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان تقریباً 9.45پرناشتہ پھردستیاب محدود آلات ورزش استعمال کرتے ہوئے جسمانی ورزش کرتے ہیں، دوپہر 1.15پرغسل کے بعد بانی پی ٹی آئی کو محفوظ کمپاو¿نڈ کے اندر موجود چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے، کمپاونڈ کے اندر بیٹھ سکتے یا چہل قدمی کرسکتے ہیں،دوپہر کا کھانا تقریباً 3.30سے 4.00بجے کے درمیان ہوتا ہے۔

فرینڈ آف کورٹ کے مطابق درخواست گزار نے بیان کیا روزمرہ معمول گرمیوں و سردیوں میں مختلف ہوتا ، تقریباً شام 5.30سے اگلی صبح 10.00بجے تک بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں مقید رہتے ہیں، سیل بلاک اڈیالہ جیل کے اندر تقریباً 5منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے،سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری ،کھانا پکانے کا سامان موجود ، زیادہ تر اشیائے خورونوش مرتبانوں ، بند ڈبوں میں محفوظ ،صفائی کیلئے کچھ بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق درخواست گزار صبح ناشتے میں کافی، دلیہ ، چند کھجوریں استعمال کرتے ، دوپہر کا کھانا ہفتہ وارمنصوبہ بندی کے تحت منتخب کیاجاتا ہے، دوپہر کے کھانے کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے،بوتل بند پینے کا پانی دستیاب ،سیل کے اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، چھت والا پنکھا،بلوور ہیٹر ،2 میزیں، وال کلاک، چارپائی،بیڈ، کرسی اور چھوٹا ریک موجود ہے،32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تاہم چلانے پر خراب پایا گیا، سیل میں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے 5 ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے، سیل کے اندر فراہم کردہ کرسی غیر آرام دہ پائی گئی، کپڑے دھونے اور صفائی کےلئے مشقتی دستیاب ہے،عمران خان نے مسلسل دھندلاہٹ اور نظر مدھم ہونے کی شکایت کامتعدد بارمسلسل سپرنٹنڈنٹ جیل کو آگاہ کیا،جیل حکام کی جانب سے شکایات کے ازالے کےلئے کوئی مو¿ثر اقدام نہیں کیا گیا بعد ازاں اچانک دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی ،پمز ہسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر عارف کو معائنے کےلئے بلایا گیا۔

فرینڈ آف کورٹ نے کہاعمران خان کے مطابق آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) نے شدید نقصان پہنچایا، علاج (بشمول انجکشن) کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی،5 ماہ ہوگئے،وکلا ،اہلخانہ سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، 2025 میں بیٹوں قاسم ، سلمان سے 2 مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ کرایا گیا،2 سال سے دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے جمع کرائی گئی رپورٹ سفارش کی پی ٹی آئی کی اہلخانہ کےساتھ بلاتعطل ملاقاتیں ،سیل سے مچھروں ،حشرات کے خاتمے کیلئے اقدامات ،ریفریجریٹرجیسی بنیادی ضرورت،قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث کتابیں فراہم کی جائیں۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ، بچوں سے بات کرانے کا حکم دےدیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے بانی پی ٹی آئی ریاستی تحویل میں ہیں دیگر قیدیوں کی طرح یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں تاہم کسی کو غیر معمولی رعایت نہیں دی جائے گی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی،عدالت نے کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں معائنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی 16 فروری سے قبل اقدامات مکمل کیے جائیں،چیف جسٹس نے کہا صحت کا معاملہ سب سے اہم ،طبی سہولیات کی فراہمی ریاستی ذمہ داری ہے،قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، حکومت پر اعتماد کررہے ہیں۔