عمران کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور بیٹوں سے رابطے کی سہولت دینے کا حکم

اسلام آباد :( )سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور بیٹوں سے رابطے کیلئے ٹیلی فونک سہولت دینے کا حکم دے دیا۔

سلمان صفدر نے رپورٹ پڑھ کر سنائی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا مناسب آرڈر کریں گے، رپورٹ میں پیش کی گئی دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیر التوا رکھیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا بانی کی صحت کے معاملے پر بھی مناسب فیصلہ دیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ، معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، حکومت اچھے موڈ میں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا بیرسٹر سلمان صفدر نے بخوبی ذمہ داری نبھائی، فرینڈ آف دی کورٹ کے کردار کو سراہتے ہیں، حکومت کو بھی بہترین سہولیات فراہمی پر سراہتے ہیں، بیرسٹر سلمان نے کہا مجھے 100 سے زائد کالز اور میسجز آئے، میں نے کہا کورٹ کی امانت ہے میں نہیں بتا سکتا ، یہاں تک اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا۔

سپریم کورٹ نے کہا بانی پی ٹی کی آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے کرایا جائے ، بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے فون پر بات بھی 16 فروری سے پہلے کرائی جائے، اٹارنی جنرل نے عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی۔

سلمان صفدر نے استدعا کی طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے، سپریم کورٹ نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔

سلمان صفدر نے کہا بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں بھی مہیا کی جائیں، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ڈاکٹرز اگر کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں گے تو فراہم کر دی جائیں گی۔