پاکستان ،انڈونیشیا کا اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے پراتفاق


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)پاکستان ،انڈونیشیا کا2027 تک ترجیحی تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں بدلنے کےلئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق ،وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کےساتھ معاشی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاﺅن سٹریم انڈسٹری روسن روئیسلانی کی سربراہی میں 5 رکنی وفد نے ملاقات کی۔

شہبازشریف نے کہا پاکستان ،انڈونیشیا کے درمیان دہائیوں پر مبنی برادرانہ تعلقات وقت کےساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں،انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا 2025میںپاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے انتہائی مفید و نتیجہ خیز رہا،پاکستان انڈونیشیا کےساتھ معاشی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا خواہاں ہے ۔

انڈونیشیائی وزیر سرمایہ کاری نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال ،میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت کا شکریہ اداکرتے ہوئے صدر پرابووو سوبیانتو کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا ،ملاقات میں دونوں ممالک نے 2027 تک ترجیحی تجارتی معاہدے کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے)میں بدلنے کےلئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاو¿ن سٹریم انڈسٹری اور خودمختار ویلتھ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو روزان روزلانی سے وفد کی سطح پر ملاقات کی،اقتصادی و سرمایہ کاری تعلقات مضبوط بنانے، ممکنہ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا گیا،اسحاق ڈار نے پاکستان ،انڈونیشیا کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو باہمی احترام و تعاون پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا باہمی سرمایہ کاری دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

علاوہ ازیںرقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کےلئے لائسنس کے اجرا کی تقریب سے خطاب میںوزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ، کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت و معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ،ترقی و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کےلئے پرعزم ہیں،رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کےلئے لائسنس کا اجرانہایت اہم ہے، پاکستان میں بینکاری کے شعبے کو فروغ ملے گا۔