عرب ممالک کی ثالثی ،جنگ کاخطرہ ٹل گیا،ٹرمپ ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ

تہران،واشنگٹن،پیرس:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)عرب ممالک کی ثالثی ،ٹرمپ ایران پر حملہ نہ کرنے پرآمادہ، جنگ کاخطرہ ٹل گیا۔

فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان کی ممکنہ حملہ رکوانے کیلئے آخری لمحات میں بھرپور سفارتی کوششیں کامیاب رہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک موقع پر دینے پر رضا مند ہوگئے۔

عرب میڈیا ،حکام کے مطابق امریکی حکام مذاکرات کو وقت دے رہے ہیں اوررابطے جاری ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے،3عرب ممالک کی سفارتکاری سے امریکہ ،ایران کے درمیان براہ راست بات چیت ممکن ہوئی۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق صورتحال میں نمایاں تبدیلی آگئی ،دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کا عندیہ مل رہا ہے،عرب ممالک کی ثالثی نے امریکہ ،ایران کو موثر،پرامن مذاکرات کیلئے موقع فراہم کیا،خطے میں استحکام کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ،امید ہے بات چیت آگے بھی جاری رہے گی۔

قبل ازیں امریکی میڈیا ،برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل جنگ کی بجائے مختصر لیکن فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں،امریکہ ایران میں 50 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے،پاسدارن انقلاب کا ہیڈ کوارٹرز بھی شامل ہے۔

ادھرایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ملک میں امن و سکون قائم ، صورتحال مکمل قابو میں ہے،جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں،پہلے جیسانتیجہ ہی نکلے گا،عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا،سفارتکاری بہتر راستہ ہے اگرچہ امریکہ کےساتھ کوئی مثبت تجربہ نہیں پھر بھی سفارت کاری جنگ سے بہت بہتر ہے، مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا،شرپسندوں نے پولیس پر گولیاں چلائیں، داعش طرز پردہشتگرد کارروائیاں کیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا،لوگوں کو پھانسی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،معاشی مشکلات کےخلاف 10دن تک پرامن احتجاج جاری رہا ،3دن تک تشدد اسرائیل کی جانب سے منظم کیا گیا۔

پاسداران انقلاب کی بری فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل کرمی نے کہا ہے بیرونی تعاون سے ہوئے فسادات کے بعد امریکی حملوں کی دھمکیوں کے پیش نظر فورسز کو ہائی الرٹ کردیا ،ایران مکمل و ہائبرڈ وار کا مقابلہ کر رہا ہے،جنگ کا مقابلہ کرنے کےلئے اعلیٰ سطح پر تیار ،مسلح افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کےخلاف متحد ،مربوط ہیں۔

ایرانی وزیر انصاف امین حسین رحیمی نے کہا 8 سے 10 جنوری کے دوران ملک میں احتجاج نہیں ہوا بلکہ مکمل خانہ جنگی تھی،گرفتار افراد کےساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی،اسرائیل، امریکہ اور بادشاہت کے حامیوں کےخلاف قانونی کارروائی بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

دریں اثنا ایران نے صورتحال پر قابو پاکر تخریب کاروں کے خلاف کریک ڈاون شروع کر دیا،تہران کی سڑکوں پر تشدد کی سرگرمیوں میں واضح کمی ،جلاو گھیراو کے آثار نہ ہی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں،ایران نے فضائی حدود بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دی،سول ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی ملک کی فضائی حدود دوبارہ معمول کے مطابق فعال اور ہوائی اڈے مسافروں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔