اسلام آباد: (بیورورپورٹ)سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم ، وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا آئین میں ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود ،جذبات کی بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے، عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی سے قانون کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں سپیشل،سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل میں ہے، ججز کو قانون کے مطابق بلاخوف و امتیاز انصاف کرنا ہوتا ہے،پاکستان افراد نہیں،آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے، ججزغیرجانبدار منصف ہوتے ہیں، ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہاہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ، پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا، ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں، ہائی کورٹس آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں،بینظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی کے طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہیں ہو سکے، طالبعلم طبی وجوہات کی بنا پر سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے،طالبعلم نے وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دیں ، یونیورسٹی نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں،واضح رہے سندھ ہائی کورٹ نے طالبعلم کو سپیشل،سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت دی تھی۔
دریں اثنا وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیاں کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے فیصلے میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ٹائم لائن دیں گے، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا 2022 میں قانون میں تبدیلی کرکے کوئٹہ کو میٹرو پولیٹن سٹی قرار دیا گیا۔
جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ 10 کلومیٹر کا شہر ہے، اتنا بڑا آفس ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن 10کلومیٹر کے علاقے کی حلقہ بندیاں نہیں کرسکتا،جسٹس عامر فاروق نے کہا الیکشن کمیشن رضامندی دے تو اپریل میں بلدیاتی انتخابات کرا دیں؟جسٹس روزی خان نے کہا کوئٹہ کی حلقہ بندیاں تو 2ہفتوں میں بھی ہوسکتی ہیں اب 5سال تو مقدمے کو زیر التوا نہیں رکھیں گے،جسٹس عامر فاروق نے کہا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی الیکشن کمیشن نے وفا نہیں کیا، الیکشن کمیشن تو نہ کرنے والی باتیں کررہا ہے۔
ہائیکورٹس کا اختیار محدود، جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے،آئینی عدالت


















