اسلام آباد :(بیورورپورٹ) وفاقی وزرا نے واضح کیا ہے وادی تیراہ میں آپریشن مفروضہ،برفباری میں ہر سال نقل مکانی معمول،صوبائی حکومت ناکامیوں کا ملبہ فوج پر ڈالنا چاہتی ہے، خفیہ اطلاعات پر آپریشن جاری رہیں گے، دہشتگردوں کا ہر صورت قلع قمع کیا جائےگا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزرا خو اجہ آصف،عطا تارڑ،وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی نے کہانقل مکانی سے قبل صوبائی حکومت ،تیراہ عمائدین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعدنوٹی فکیشن جاری کیا گیا،خیبر کے سرحدی علاقوں بالخصوص وادی تیراہ میں موسم سرما کے دوران نقل مکانی کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں بلکہ صدیوں سے جاری معمول ،تذکرہ برطانوی دور کے گزٹیئرز میں بھی موجود ہے، مائیگریشن کا پاک فوج کے کسی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا صوبائی حکومت کےساتھ مذاکرات کے بعد مائیگریشن پیکیج طے پایا ،باقاعدہ دستاویزات بھی موجود ہیں، نقل مکانی کا نوٹیفکیشن کے پی حکومت ،جرگے کی مشاورت سے جاری کیا گیامگر نقل مکانی کو بحران قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے،تمام عمل میں فوج یا تعینات دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں،شدید سردی کے باعث مستقل رہائش مشکل ہو جاتی ہے،علاقے میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر بھنگ کی کاشت سے بھاری منافع حاصل ہوتا ،تیار ہونےوالی ادویات ، آمدنی بااثر سیاسی افراد یا ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتی یہی اصل مسئلے کی جڑ ہے ۔
وزیر دفاع نے کہا نظام بدلنا چاہتے ،سکول، تھانے اور ریاستی رٹ قائم کرنے کی مخالفت کی جا رہی ہے،بعض صوبائی وزرا عناصر کے مفادات ٹی ٹی پی کےساتھ جڑے ،کے پی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کےلئے ایسے آپریشن کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں،وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 500لوگ موجود ہیں، علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی،فاٹا انضمام واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے پر پاکستان میں دہشتگردی کئی گنا بڑھ گئی ،افغان طالبان کی کابل ،قندھار میں الگ الگ پالیسی فرنچائزز ،پاکستان نے عبوری حکومت سے 5بار مذاکرات کیے،وادی تیراہ میں امن و سہولیات کا فقدان ہے تو بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے تاہم وفاقی حکومت ہر ممکن وسائل کےساتھ صوبائی حکومت کی مدد کےلئے تیار اور نقل مکانی کرنےوالوں کی مشکلات دور کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے برطانوی دور کے آفیشل گزٹیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا1880 میں بھی لکھا گیا تھا خیبر کے آفریدی ،اکاخیل قبائل سردیوں میں تیراہ ویلی سے ہجرت کر جاتے تھے جو ثبوت عمل صدیوں پرانا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب کی بارنقل مکانی کچھ تاخیر سے شروع ہوئی۔
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی نے سوال اٹھایا صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 4ارب کے پیکیج میں سے متاثرہ افراد کو حقیقت میں کتنا ملا؟ڈی سی کے مطابق نقل مکانی رضاکارانہ ہے ،پاک فوج یا وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں،متاثرہ لوگوں کو 8 فروری کے احتجاج میں سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وادی تیراہ میں آپریشن مفروضہ،صوبائی حکومت ناکامیوں کا ملبہ فوج پر ڈالنا چاہتی ہے،وفاقی وزرا


















