ڈھاکہ:(مشرق نیوز)میدان سج گیا،بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا دنگل سج گیا،جماعت اسلامی ،بی این پی میں کانٹے دار مقابلہ،سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی، 350 نشستوں پر2000 امیدوار،1400پہلی بارانتخابات لڑ رہے ہیں، اعداد و شمار کے مطابق 600 سے زائد امیدوار 44 سال یا کم عمر کے ہیں۔
سروے کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی سب سے بڑی و مضبوط جماعت کے طور پر ابھری ،برسوں کی پابندی کا سامنا کرنے والی جماعت اسلامی سخت مقابلہ دے رہی ہے، جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کا اتحاد میدان میں اترا،بعض تجزیوں کے مطابق بی این پی ، جماعت اسلامی کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم (تقریباً 2 فیصد) رہ سکتا ہے،2024 کی طلبہ تحریک کے رہنماوں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد کا حصہ اور نوجوان ووٹرز میں مقبول ہے۔
شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ رجسٹریشن معطل ہونے کی وجہ سے انتخابات سے باہر ہے،جائزوں کے مطابق سابقہ ووٹرز کی بڑی تعداد اب بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے،بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے ،جماعت اسلامی کی زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں،سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز میں کیا گیا۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کمشنر بریگیڈئیر (ر) ابوالفضل ثنا نے کہا ملک میں 10 نئی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں ،45 لاکھ نئے ووٹرز ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے،انتخابات کےساتھ آئینی و قانونی اصلاحات کا ریفرنڈم بھی ہے۔
ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما منظور الاحسن منشی نے پارٹی کو ووٹ نہ دینے والوں کے گھروں کو آگ لگانے کی دھمکی دے دی،منظور الاحسن منشی کو ووٹرز کو دھمکانے پر الیکشن انکوائری و جوڈیشل کمیٹی نے طلب کر لیا ،بی این پی نے معاملہ سامنے آنے کے بعد پارٹی پالیسی و نظم و ضبط کےخلاف بیانات دینے پر منظور الاحسن منشی کو پارٹی سے نکال دیا ۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا دنگل سج گیا،جماعت اسلامی ،بی این پی میں کانٹے دار مقابلہ



















