واشنگٹن،تہران:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)شدید فوجی دباﺅ کے باوجود ایران کاجھکنے سے انکار،ٹرمپ مایوس،ممکنہ جنگ کی تیاریاں،سپریم لیڈر خامنہ ای نے اپنے جانشین مقرر کردئیے۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہاصدر ٹرمپ نے سوال کیا اتنے دباو اور خطے میں بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہااور جوہری پروگرام پر معاہدے کےلئے آمادگی کیوں نہیں دکھائی۔
انٹرویوو میںسٹیو وٹکوف نے کہاصدر ڈونلڈ ٹرمپ تجسس کا شکار اورجانتا چاہتے ہیںایران کیوں نہیں کہتا ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے، اقدامات کرنے کےلئے تیار ہیں۔
ادھر امریکی میڈیا کے مطابق ایران ممکنہ جنگ سے نمٹنے کیلئے تیاریوں میں مصروف ہے، سپریم لیڈر نے زیادہ تر اختیارات نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دئیے،امریکہ سے مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں، سپریم لیڈر کو لاریجانی پر مکمل اعتماد ہے،4 سطحوں پر مشتمل اپنے جانشین بھی مقرر کردئیے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جنگ کی صورت میں سپیکر باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جاسکتی ہے، اعلیٰ قیادت ماری گئی تو عبوری انتظام میں لاریجانی سرفہرست ہیں، باقر قالیباف ،سابق صدر حسن روحانی کا نام عبوری انتظام کیلئے زیر غور ہے،خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کردئیے گئے ، صدر پزشکیان بظاہر اختیارات لاریجانی کو سونپنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، سٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو لاریجانی سے اجازت مانگی گئی۔
دریں اثنا امریکہ نے ایران کےساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سینکڑوں فوجیوں کو قطر ، بحرین کے اڈوں سے واپس بلا لیا،گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ لڑائی کے پیش نظر فوجیوں کو قطر ، بحرین کے اڈوں سے واپس بلانے کا احتیاطی فیصلہ سعودی، خلیجی اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا، مقصد مشرق وسطیٰ میں فوجی استعداد ،ردعمل کو زیادہ موثر انداز سے منظم کرنا ہے
شدید فوجی دباﺅ کے باوجود ایران کاجھکنے سے انکار،ٹرمپ مایوس



















