معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کی دوٹوک وارننگ


تہران:(مشرق نیوز)معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران نے دوٹوک وارننگ جاری کردی۔

انقلاب ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر آزادی سکوائر پرخطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا جوہری پروگرام پر حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے نہیں جھکیں گے،ایران جوہری پروگرام کی کسی بھی تصدیق کےلئے تیار ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہامنصفانہ معاہدہ ہو تو جوہری پروگرام پر ڈیل ممکن ہے،12 ماہ کے دوران ملک کو غیرمعمولی چیلنجز کا سامنا رہا،ایران کی طاقت کا سرچشمہ اپنے عوام ہیں،جنگ کی بجائے سفارتکاری ترجیح ،امید ہے 2026امن و سکون کا سال ہوگا۔

عباس عراقچی نے کہا ایران اپنی خودمختاری کے دفاع سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے، لاکھوں ایرانیوں نے پھر عزم کا اعادہ کیا ملکی حقوق اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سپریم لیڈر خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا امریکہ کو چاہیے دھمکیوں کی بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے،میزائل صلاحیت ملک کی ریڈ لائن ہے ،مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا،ایران کےخلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کرےگا۔