ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی سے پاکستان میں دہشتگردی بڑھی، اقوام متحدہ

نیویارک:(بیورورپورٹ) ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی سے پاکستان میں دہشتگردی بڑھی، اقوام متحدہ نے طالبان کا بیانیہ خاک میں ملا دیا۔

سکیورٹی کونسل رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی نگرانی ٹیم کے مطابق کابل میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی خطے کیلئے تشویشناک ہے،افغان حکام کا دعویٰ افغانستان میں کوئی دہشتگرد گروہ موجود نہیں، کسی رکن ملک نے تسلیم نہیں کیا، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ آزادی ، سہولت ملنے پرپاکستان کےخلاف حملے ، کشیدگی بڑھی،القاعدہ کو افغانستان میں سرپرستی حاصل رہی ،بالخصوص ٹی ٹی پی کو تربیت ،مشاورت فراہم کی گئی،القاعدہ برصغیر کی قیادت کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاعات اور بیرونی کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیاداعش خراسان شمالی افغانستان ، پاکستانی سرحد کے قریب فعال اور قابل ذکر صلاحیت رکھتی ہے، افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ، نیٹو ہتھیاروں کے ذخائر نے پاکستان میں ٹی ٹی پی حملوں کی شدت بڑھائی، ٹی ٹی پی نے جدید ہتھیار، رات میں دیکھنے والے آلات ، ڈرون نظام استعمال کیے،طالبان رجیم میں بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام،آزاد میڈیا ،قدغنیں،سابق حکومتی اہلکاروسکیورٹی فورسز مسلسل نشانے پرہیں،خواتین پر پابندیاں مزید سخت کردی گئیں،نظام انصاف مفلوج ، نام نہاد فوجداری ضابطے نے ظلم کو قانونی جواز دےدیا ۔