کاروباری لاگت میں کمی ، ٹیکس نظام آسان بنانے کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں :تاجر رہنما

لاہور (نعیم جاوید) وفاقی بجٹ 2026-27ءکے بعد لاہور کے معروف تجارتی مرکز حفیظ سینٹر میں ”مشرق“ لاہور کئے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ الیکٹرانکس، موبائل فون، کمپیوٹر اور آئی ٹی مصنوعات سے وابستہ تاجروں نے بجٹ کو جزوی ریلیف کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کاروباری لاگت میں کمی اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کیلئے مزید عملی اقدامات کرے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں بعض شعبوں کیلئے مراعات کا اعلان کیا گیا ہے تاہم مارکیٹ کی مجموعی صورتحال میں بہتری کیلئے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ صدر فےاض بٹ، چےئرمےن عمران عطا،سےنئر نائب صدور لالہ سےف ، راجہ جاوےد ،شےخ فےاض، تاجر رہنما عماد سعےد بھٹی،سروے کے دوران متعدد دکانداروں نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ مہنگائی، صارفین کی کمزور قوت خرید، بجلی کے بڑھتے ہوئے کمرشل نرخ، بینکوں سے مہنگی فنانسنگ اور درآمدی اشیا پر اضافی لاگت نے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں اگرچہ کچھ ٹیکس سہولتیں دی گئی ہیں، لیکن عام تاجر کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچے گاحفیظ سینٹر کے تاجروں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں نمایاں کمی کرے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی یقینی بنائے، درآمدی الیکٹرانکس مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں پر نظرثانی کرے اور ایف بی آر کے ٹیکس نظام کو مزید آسان اور شفاف بنایا جائے تاکہ کاروباری برادری اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکے تاجروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بار بار تبدیل ہونے والی ٹیکس پالیسیوں سے کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے، اسلئے حکومت کو طویل المدتی اور مستحکم معاشی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کاروباری اخراجات میں کمی لائی جائے، توانائی سستی فراہم کی جائے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت دی جائے تو مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور حکومتی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔حفیظ سینٹر کے تاجر رہنماو¿ں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بجٹ پر تاجروں کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے دوران ایسے اقدامات کرے گی جن سے کاروباری ماحول بہتر ہو، سرمایہ کاری بڑھے اور الیکٹرانکس کی مقامی مارکیٹ کو مزید فروغ حاصل ہو سکے۔