جون میں کلوزنگ پر ایف بی آر کو ریونیو ہدف میں مشکلات

لاہور(نعیم جاوید) مالی سال 2025-26 کے اختتام میں چند روز باقی ہیں اور وفاقی حکومت کے اہم ریونیو ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اپنے سالانہ ٹیکس ہدف کے حصول کیلئے سخت دباو کا سامنا ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار اور مالیاتی ماہرین کے تجزیوں کے مطابق ایف بی آر رواں مالی سال کے دوران مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں مشکلات سے دوچار رہا جبکہ جون کلوزنگ میں بھی مکمل ہدف حاصل ہونے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیںمالی سال 2025-26 کے آغاز پر ایف بی آر کیلئے تقریباً 14.13 کھرب روپے کا سالانہ ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم معاشی سست روی، درآمدات میں کمی، صنعتی پیداوار کے کمزور رجحان اور کھپت میں کمی کے باعث یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگیا۔ بعد ازاں حکومت اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے ہدف میں نظرثانی کی گئی ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے مئی 2026 تک ادارے نے 11.232 کھرب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں جبکہ اسی مدت کیلئے نظرثانی شدہ ہدف 11.257 کھرب روپے تھا۔ اس طرح مئی کے اختتام تک تقریباً 25 ارب روپے کا شارٹ فال برقرار رہا۔ مئی 2026 میں ایف بی آر نے 967 ارب روپے جمع کیے جو اسی ماہ کے نظرثانی شدہ ہدف 994 ارب روپے سے 28 ارب روپے کم تھے ٹیکس ماہرین کے مطابق جون کا مہینہ روایتی طور پر ایف بی آر کیلئے سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ادارہ سالانہ ہدف پورا کرنے کیلئے ایڈوانس ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، درآمدی ڈیوٹیز اور بڑے ٹیکس دہندگان سے وصولیوں میں تیزی لاتا ہے۔ اسی وجہ سے جون میں غیر معمولی وصولیوں کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے باعث مکمل ہدف حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران انکم ٹیکس کی وصولی نسبتاً بہتر رہی۔ جولائی تا مئی مدت میں انکم ٹیکس وصولی نظرثانی شدہ ہدف سے زائد رہی جبکہ سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں ہدف سے کم وصولیوں نے مجموعی کارکردگی کو متاثر کیا۔ درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی کمزور نمو نے ریونیو خسارے میں اہم کردار ادا کیادوسری جانب حکومت نے ٹیکس شارٹ فال کے اثرات کم کرنے کیلئے پٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ مئی تک پٹرولیم لیوی کی وصولیاں 1.2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی تھیں جو مجموعی مالیاتی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوئیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں محدود توسیع، غیر دستاویزی معیشت کا بڑا حجم اور زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے شعبوں سے کم وصولیاں ایف بی آر کی کارکردگی پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو آئندہ مالی سال 2026-27ءکیلئے بھی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کرنا پڑا ہے۔ وفاقی بجٹ میں آئندہ سال کیلئے 15.26 کھرب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف تجویز کیا گیا ہے جو رواں سال کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ ہے ماہرین کے مطابق جون کلوزنگ میں ایف بی آر اضافی اقدامات، آڈٹ کارروائیوں، زیر التوا مقدمات کی وصولیوں اور بڑے ٹیکس دہندگان سے ایڈوانس ٹیکس حاصل کرکے شارٹ فال کم کرنے کی کوشش کرے گا، تاہم حتمی اعداد و شمار 30 جون کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ مالیاتی حلقوں کا خیال ہے کہ اگرچہ ایف بی آر گزشتہ سال کے مقابلے میں دو ہندسوں کی شرح سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اصل سالانہ ہدف کے مقابلے میں نمایاں کمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں جون کلوزنگ کے آخری دنوں کی وصولیاں مالی سال 2025-26 کی مجموعی کارکردگی کا تعین کریں گی اور یہی اعداد و شمار آئندہ بجٹ کے ریونیو تخمینوں کی بنیاد بنیں گے۔