واشنگٹن،تہران،منامہ،لندن:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)جنگ بندی معاہدہ بے سود،امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر حملے،کشیدگی پھر بڑھ گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل ،ڈرون سٹوریج کے مقامات ،ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہرمز میں ایران کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں فضائی حملہ کیا گیا،ایران کا اقدام عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کےلئے خطرہ ہے،فورسز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے کےلئے بدستور موجود اور ایران کےساتھ ہونےوالے معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کےلئے ہر وقت چوکس ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ ڈرون حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں،ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 4 خودکش ڈرون داغے،ایک ڈرون بڑے و انتہائی مہنگے مال بردار جہاز کے اوپری حصے سے ٹکرایا ،جہاز کو نقصان پہنچا تاہم اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا،بقیہ 3 خودکش ڈرونز کو امریکی افواج نے فضا میں ہی مار گرایا،ایران کاحملہ اچھا نہیں لگا۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاتشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا، ایران کو ایم اویو پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے اختلاف ہے تو براہ راست رابطہ کرے۔
دریں اثنا ایران نے بحرین میں امریکی تنصیبات پر جوابی ڈرون حملے کیے، وزارت خارجہ نے کہاامریکی حملے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے،افواج نے ردعمل میں امریکہ سے منسلک اہداف پردفاعی کارروائیاں کیں، خلیجی ممالک اپنی سرزمین ایران کےخلاف کسی بھی حملے کےلئے استعمال نہ ہونے دیں۔
پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہاامریکہ نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، ناکام صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا جنگ بندی کا احترام کرتے نہ ہی مذاکراتی اصولوں کے پابند ہیں،جنگ بندی کی خلاف ورزی امریکہ کیلئے پسپائی و ندامت کا باعث بنے گی، الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضانے کہا مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب فوری و فیصلہ کن اندازمیں دیاجائے گا۔
پاسداران انقلاب نے کہا بحری و فضائی دستوں نے جزیرہ سرک پر کیے گئے امریکی حملے کو کامیابی سے ناکام بنا یا،جارحیت کو بغیر جواب نہیں چھوڑیں گے، ردعمل طے کردہ وقت ،مقام پر تیز اور فیصلہ کن ہوگا،امریکہ کوکسی بھی نئی حماقت کا سخت جواب دینگے،امریکی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے کے مترادف ہیں، ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کےلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ادھر بحرین نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکئی ڈرونز نے ملکی سرزمین کو نشانہ بنایا،اقدام بحرین کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ،کشیدگی میں کمی کے درمیان حملے جاری رکھ کرامن کوششوں کونقصان پہنچانے کا ذمہ دار ایران ہے،خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتے ہےں۔
جنگ بندی معاہدہ بے سود،امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر حملے

















