پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، اربوں روپے سے تیار سافٹ وئیر ناکامی سے دوچار

لاہور (میاں ذیشان) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ویب گاہ ای سٹامپ سٹیزن پورٹل سسٹم پر پڑنے والے بھاری دباﺅ کو برداشت کرنے میں ناکام، اربوں روپے مالیت سے تیار کردہ سوفٹ وئیر کی ناکامی سے لاکھوں جائیدادوں کی ٹرانزیکشن رکنے پر حکومتی خزانے میں جمع ہونیوالا کروڑوں روپے کا ریونیو سست روی کا شکار، پلرا کا آئی ٹی سیکشن 4 روز گزر جانے کے باوجود تکنیکی وجوہات دور کرنے میں قاصر نظر آ رہا ہے۔ جائیداد کی ٹرانسفر کیلئے آن لائن چالان تیار کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خریدار اور فروخت کنندہ کو پلرا کی جانب بھیجے جانیوالے تصدیقی کوڈ بھی موصول نہ ہونے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ رواں مالی سال کے اختتام پر جائیداد کا ڈی سی ریٹ بڑھنے کی وجہ سے عوام الناس کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا اربوں روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ای سٹامپ سٹیزن پورٹل سسٹم شدید تکنیکی خرابیوں کا شکار ہو کر صوبہ بھر میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کے عمل میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے، جبکہ مسلسل چار روز سے جاری سسٹم کی ناکامی نے نہ صرف ہزاروں شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا بلکہ حکومتی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کے ممکنہ ریونیو سے محروم کر دیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ افراد، پراپرٹی ڈیلرز، سرمایہ کاروں اور عوامی حلقوں نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی انتظامی اور تکنیکی نااہلی کو موجودہ بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ای سٹامپ سٹیزن پورٹل پر غیر معمولی دباﺅ پڑنے کے بعد سسٹم مطلوبہ استعداد کے مطابق کام کرنے میں ناکام ہو گیا جس کے نتیجے میں صوبہ بھر میں لاکھوں روپے نہیں بلکہ اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کی ٹرانزیکشنز متاثر ہو رہی ہیں۔ شہریوں کو جائیداد کی منتقلی کیلئے درکار آن لائن چالان تیار کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ خریداروں اور فروخت کنندگان کو موصول ہونے والے تصدیقی کوڈز بھی بروقت نہیں پہنچ رہے جس سے رجسٹری اور انتقال کے متعدد معاملات التوا کا شکار ہو چکے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اربوں روپے کی لاگت سے قائم کئے گئے جدید نظام کے باوجود پلرا کا آئی ٹی سیکشن چار روز گزرنے کے باوجود خرابیوں کو دور کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس پر صارفین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ رئیل سٹیٹ مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مالی سال کے اختتام میں چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور حکومت کی جانب سے جولائی سے جائیدادوں کے ڈی سی ریٹس میں ممکنہ اضافے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، ایسے میں سسٹم کی مسلسل بندش اور سست روی ہزاروں خریداروں اور فروخت کنندگان کیلئے بھاری مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر عوام الناس موجودہ نرخوں پر اپنی جائیدادوں کی رجسٹری اور انتقال مکمل نہ کرا سکے تو انہیں جولائی کے بعد بڑھنے والے ڈی سی ریٹس کے باعث اضافی ٹیکسوں، فیسوں اور دیگر سرکاری واجبات کی مد میں لاکھوں روپے تک اضافی ادائیگیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ جدید ڈیجیٹل نظام کے دعوﺅں کے باوجود اگر ایک سرکاری ادارہ بنیادی تکنیکی دباﺅ برداشت نہیں کر سکتا تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ سرمایہ کاری کا ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی استعداد، منصوبہ بندی اور تکنیکی صلاحیتوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اگر فوری طور پر سسٹم کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو جائیدادوں کی خرید و فروخت کا عمل مزید سست ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کو ریونیو نقصان اور عوام کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) ترجمان پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی علی رضا بھٹہ نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ ای اسٹامپ سٹیزن پورٹل پر گزشتہ چند روز کے دوران ایک عارضی تکنیکی مسئلہ پیش آیا تھا جس کے باعث بعض صارفین کو آن لائن خدمات کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اتھارٹی کی آئی ٹی ٹیم نے فوری اقدامات کرتے ہوئے مسئلہ حل کر دیا اور سسٹم مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ای-اسٹامپ پورٹل کے ذریعے 7 لاکھ 39 ہزار سے زائد صارفین کو کامیابی سے خدمات فراہم کی گئیں۔ ترجمان کے مطابق پورے نظام کی ناکامی یا سافٹ ویئر کی غیر موثر ہونے سے متعلق تاثر حقائق کے منافی ہے، جبکہ تمام بنیادی خدمات معمول کے مطابق فعال ہیں اور شہری بلا تعطل سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی جدید، محفوظ اور موثر ڈیجیٹل سروسز کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔