لاہور (اپنے رپورٹر سے) سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کا چیلنج پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے براہِ راست جڑا ہوا ہے، اسلئے آبادی کے موثر انتظام، خاندانی منصوبہ بندی اور صحت عامہ کے حوالے سے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیشنل پاپولیشن کونسل کے قیام کا اعلان ایک انتہائی اہم قدم ہے اور اس وڑن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔وہ ”پنجاب میں آبادی کے استحکام کیلئے خاندانی منصوبہ بندی میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت“کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں۔ تقریب میں برٹش ہائی کمیشن کے نمائندگان، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، زیبا ستار، سول سوسائٹی کے نمائندے، ترقیاتی شراکت داروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔سینئر صوبائی وزیر نے معروف ماہر آبادیات زیبا ستار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبادی کے مسئلے، خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے موضوعات پر کھل کر اور ذمہ دارانہ انداز میں گفتگو کی جائے تاکہ معاشرے میں آگاہی اور شعور کو فروغ دیا جا سکے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ترجیح پنجاب کے عوام، بالخصوص خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور مجموعی انسانی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری سہولیات فراہم کرے، تاہم آبادی میں مسلسل اضافہ ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی تقسیم، صحت، تعلیم، روزگار، صاف پانی اور بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباو کا باعث بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کے حوالے سے مختلف چیلنجز موجود ہیں لیکن آبادی میں غیر متوازن اضافہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ اگر آبادی کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی نہ کی جائے تو معیشت، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب حکومت پہلی مرتبہ سماجی و معاشی اعداد و شمار کو مربوط انداز میں اکٹھا کر رہی ہے تاکہ پالیسی سازی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری وسروے کے تحت گھرانوں کے اعداد و شمار مرتب کیے جا رہے ہیں جسے جولائی تک مکمل کرلیا جائیگا، جس سے ترقیاتی منصوبہ بندی، سماجی تحفظ، روزگار، صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں سکول میل پروگرام کا آغاز کیا جا چکا ہے جبکہ صحت اور غذائیت کے شعبوں میں بھی متعدد اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ صرف ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی ترقی، غذائی تحفظ، صحت، تعلیم اور معاشی مواقع سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
آبادی میں اضافہ بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباو کا باعث بنتا ہے:مریم اورنگزیب


















