پنجاب میں 20لاکھ تک باآسانی گردہ دستیاب ،غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)دھوکہ دہی کے ذریعے انسانی اعضا نکالنے کے کیس میں جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے پنجاب میں 18 سے 20 لاکھ کا باآسانی گردہ مل جاتا ، لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

ٹیکسلا کے ڈاکٹر فواد ممتاز خان کی 7 سال سزا کےخلاف بریت درخواست پر سماعت کے دوران پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے حکام عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا غیر قانونی طور پر انسانی اعضا نکالنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں، کوئٹہ میں اگر کسی کو گردہ چاہیے تو پنجاب سے آسانی سے مل جاتا ہے، پنجاب میں متعلقہ اتھارٹی کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ،18 سے 20 لاکھ کا باآسانی گردہ مل جاتا ہے۔

پنجاب کے سرکاری وکیل نے کہا ڈونر کو تو 2سے 4لاکھ ملتے ہیں باقی رقم ایجنٹس کماتے ہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کوئٹہ میں تو لوگوں کو اپنا گردہ اتنا عزیز ہوتا ہے اربوں روپے بھی دو تو نہیں دیں گے،جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا پنجاب والے اپنا دل گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں؟،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ریکارڈ کے مطابق الزام ہے ڈاکٹر نے بغیر رضامندی بے ہوش کرکے شہری کا گردہ نکالا، ڈاکٹر کے وکیل نے کہا معاملے میں حقیقت کم اور الزامات زیادہ ہیں،سرکاری وکیل پنجاب حکومت نے کہا ملزم ڈاکٹر پر اسی نوعیت کے مزید 10 مقدمات بھی درج ہیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا سنجیدہ معاملہ ، انسانی اعضا کے نکالے جانے کے واقعات بڑھ گئے ، جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا معاملات میں ڈاکٹرز، ہسپتال اور متعلقہ سرکاری ادارے بھی ملوث ہوتے ہیں،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا مکمل ریکارڈ منگوا لیں اور بھرپور تیاری کے ساتھ آئیں، پیچیدہ اور اہم معاملہ ہے، اگلی سماعت پر مقدمے کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کریں گے۔