زیادہ چکنائی والی غذا دماغ پر غیر متوقع اثر ڈال سکتی ہے: طبی تحقیق

نیویارک (مشرق نیوز) تازہ ترین تحقیق کے مطابق زیادہ چکنائی والی غذا دماغ پر ایک غیر متوقع اثر ڈال سکتی ہے۔ امریکی ریاست جارجیا میں موجود ایموری یونیورسٹی میں چوہوں پر کی گئی ایک نئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ جب انہیں زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی تو آنتوں میں موجود بیکٹیریا کا توازن بگڑ گیا۔ اس صورتحال میں زندہ بیکٹیریا آنتوں سے نکل کر ویگس نرو کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ویگس نرو اعصابی نظام کا وہ اہم حصہ ہے جو دماغ کے نچلے حصے (برین سٹیم) کو دل، پھیپھڑوں اور معدے سے جوڑتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اعصابی بیماریوں کی سمجھ بوجھ کیلئے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ الزائمرز بیماری اور پارکنسنز بیماری میں مبتلا چوہوں کے دماغ میں بھی بیکٹیریا کی کم مقدار موجود تھی۔

ایموری ویکسین سینٹر اور ایموری یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کے شعبہ متعدی امراض سے وابستہ ڈیوڈ ویز نے بتایا کہ اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ اعصابی بیماریوں کی ابتدا ممکنہ طور پر آنتوں سے ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دریافت سے دماغی بیماریوں کے علاج کی حکمت عملی بدل سکتی ہے کیونکہ مستقبل میں علاج کا ہدف دماغ کے بجائے آنتیں بھی بن سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اعصابی امراض میں مبتلا افراد کے علاج پر اس کے حیران کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔