جنرل ہسپتال،غیرقانونی ترقیاں پانیوالا مافیا من پسند سیٹوں پر قابض

لاہور(آصف مغل / عکاسی میاں شاہنواز ) جنرل ہسپتال میں براجمان مافیا غیر قانونی ترقیاں حاصل کر کے عرصہ دراز سے من پسند سٹیوں پر غیر قانونی سکیل اور اضافی تنخواہوں کی مد میں محکمہ صحت کو بھاری نقصان پہنچانے لگے جبکہ محکمہ صحت کے ذمہ داران افسران اس مافیا کے آگے بے بس نظر آنے لگے۔ جنرل ہسپتال کا مافیا محکمہ صحت ذمہ داران افسران سے با اثر یا پھر معاملہ کچھ اور اس معاملے پر محکمہ صحت کی خاموشی کی وجہ سے سیکرٹری صحت عظمت محمود اور وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی ایمانداری پر کئی سوالات جنم لینے لگے۔ تفصیلات کے مطابق جنرل ہسپتال میں براجمان مافیا جو بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین ہیں جن کو 2018 میں غیر قانونی طور پر ریگولر ثابت کر کہ ترقیوں سے نوازا گیا تھا جبکہ بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین نہ ریگولر ہو سکتے ہیں تو ترقی تو ان کی ہو ہی نہیں سکتی، اسکے باوجود 2018 میں جنرل ہسپتال کی انتظامیہ نے محکمہ صحت کو ”ماموں“ بنا کر غیر قانونی طور پر ریگولر ظاہر کر کے ترقیوں سے نواز دیا تھا جو آج تک غیر قانونی سکیلز پر اضافی تنخواہیں لے رہے ہیں۔ روزنامہ مشرق کی نشاندہی پر محکمہ صحت نے جنرل ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ سے رپورٹ مانگی تو جنرل ہسپتال کی انتظامیہ نے واضع پر لکھا کہ ان کی ترقی 2018 کی انتظامیہ نے غیر قانونی کی جو نہیں بنتی تھی جس پر محکمہ صحت نے جنرل ہسپتال کی انتظامیہ کو ریکارڈ سمیت انکوائری کے لئے طلب کیا جس کا باقاعدہ طور پر لیٹر جاری کیا گیا لیٹر نمبر SO AHP 11 /49-1-26 ہے جس میں انکوائری کے لئے 11-2-2026 کو دوپہر 2 بجے بلایا گیا تھا مگر با اثر مافیہ نے سب روک لیا اور انکوائری کو روک دیا گیا جنرل ہسپتال کی انتظامیہ محکمہ صحت کے بلانے پر آئی ہی نہیں جس پر محکمہ صحت کے کرپٹ افسران نے کوئی کاروائی نہیں ہونے دی با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے محکمہ صحت میں اور جنرل ہسپتال انتظامیہ میں ایسے افسران موجود ہیں جو اس با اثر مافیہ کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں اور ان پر آنے والے برے وقت میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تمام معاملات پر قابو پا لیتے ہیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اس مافیہ کو پالنے والے کرپٹ افسران کے مقاصد کیا ہیں کیا ان کی کرپشن و غیر قانونی کاموں حصہ دار ہیں یا پھر معاملہ کچھ اور ہے اس معاملہ کے تحقیقات ہونا بہت ضروری ہے اس معاملہ کی وجہ سے محکمہ صحت کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ سیکرٹری صحت عظمت محمود اور وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی ایمانداری پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مافیا ککے ساتھ ان کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے جو ان کے با اثر ہونے کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔

ایم ایس جنرل ہسپتال سے موقف کیلئے رابطہ، بات نہ ہوسکی، موقف کیلئے صفحات حاضر
موقف کیلئے ایم ایس جنرل ہسپتال سے رابطہ کیا گیا مگر بات نہ ہو سکی۔ اگر موصوف اپنا موقف دینا چاہیں تو رابطہ کر سکتے ہیں، ادارہ من و عن شائع کریگا۔