لاہور (انویسٹی گیشن سیل /آصف مغل) جنرل ہسپتال کے بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین کی غیر قانونی ترقیاں، عرصہ دراز سے اضافی تنخواہیں اور مراعات سے نوازا جانے لگا جبکہ ایم ایس جنرل ہسپتال فریاد حسین انکی سرپرستی کرنے لگا،کارروائی سے گریزاں، عرصہ دراز سے من پسند سیٹوں سے بھی نوازا گیا، بورڈ آف مینجمنٹ کا مافیا اور ایم ایس فریاد حسین کا ان کو نوازنا سمجھ سے بالا تر محکمہ صحت بھی بورڈ آف مینجمنٹ مافیا کے آگے بے بس ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق جنرل ہسپتال میں بورڈ آف مینجمنٹ کے ملازمین جو اب مافیا بن چکے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ محکمہ صحت کے ذمہ داران افسران اور جنرل ہسپتال ہر آنے والا ایم ایس ان کی جیب میں ہوتا ہے، ایسے ہی موجودہ ایم ایس جنرل ہسپتال فریاد حسین جس کو عرصہ 2 سال ہو گئے ہیں، تعینات ہوئے اور ایم ایس کے علم میں ہونے کے باوجود ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ ان کو مراعات سے نوازا جا رہا ہے۔ من پسند سیٹوں پر بیٹھے عرصہ دراز سے من مرضیاں کر رہے ہیں، کئی بار بورڈ آف مینجمنٹ نے ایم ایس جنرل فریاد حسین سے ان سے رپورٹ طلب کی اور کیس بنا کر میٹنگ میں پیش کرنے کا کہا مگر اس باوجود ایم ایس جنرل ہسپتال اس مافیا کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت نے بھی انکوائری کیلئے لیٹر لکھا محکمہ صحت کو بھی ایم ایس جنرل ہسپتال نے ٹرخا دیا اور مسلسل بورڈ آف مینجمنٹ مافیہ کی سرپرستی کر رہا ہے اور ان پر کارروائی نہیں ہونے دیتا جس کی بڑی وجہ یہ ہے ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر ہر طرح کا غیر قانونی کام کیا جاتا ہے ایم ایس جنرل ہسپتال فریاد حسین کی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اسکے علم میں ہونے کے باوجود ان کے خلاف 2 سال سے نہ کاروائی کی نہ ہی 2018 سے لے کر اب تک اضافی تنخواہیں پر غور کیا گیا جبکہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جتنی تنخواہیں 2018 سے آج تک لے رہے ہیں، ان سے ریکور کرکے قومی خزانے میں جمع کروانی چاہیے مگر ایسا نہیں ہو رہا۔ مافیا کو نوازا جا رہا ہے اور محکمہ صحت کا کروڑوں کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ اس پر سیکرٹری صحت عظمت محمود اور وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اس کے باوجود کسی بھی ذمہ دار کے کان پر جوں تک نہ رینگی ہے ۔
ممبر بورڈ آف مینجمنٹ زاہد پرویز نے اس حوالے سے مشرق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بالکل انکی ترقیاں غیر قانونی ہیں، ایم ایس فریاد حسین کو کئی بار کہہ چکے ہیں کیس بنا میٹنگ میں پیش کریں مگر ایم ایس پیش نہیں کر رہا جیسے ہی کیس میٹنگ میں آئیگا، انکے خلاف کارروائی کی جائیگی۔
آفس سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال اجمل بخاری نے اس حوالے سے ”مشرق“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کر سکتے یہ بورڈ کے ملازمین ہیں تو ان کا فیصلہ اور کارروائی بورڈ ہی کریگا۔
جنرل ہسپتال بورڈ آف مینجمنٹ ملازمین کی غیر قانونی ترقیاں، اضافی تنخواہیں، مراعات


















