لاہور،اسلام آباد:(کورٹ رپورٹر،بیورورپورٹ)وکلا رہنماﺅں نے کہاہے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہوا تو دھرنا دیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نے کہا بانی پی ٹی آئی کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دےکر جیل میں رکھا گیا ،10ماہ سے قید تنہائی میں ہیں، سپریم کورٹ نے رپورٹس دیکھ کر علاج کا فیصلہ کیا، حکومت کا عدالتی حکم کے باوجود بانی چیئرمین کا علاج نہ کرانا بنیادی حقوق کےخلاف ہے،جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی، وزیر قانون نے پریس کانفرنس میں عدالتی حکم نہ ماننے کا اعلان کیا، سپریم کورٹ حکومت کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی تو وکلا احتجاج کریں گے ،عدالتی چھٹیوں کے بعد پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیاجائےگا۔
سینیٹر حامد خان نے کہا عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے انارکی پیدا ہوتی ،کٹھ پتلیوں کے ذریعے نظام چلایا جارہا ہے،2الگ بڑی عدالتیں بنا کر من پسند فیصلے لینے کا پروگرام بنایا گیا ،خدشہ ہے بانی پی ٹی آئی کو مصری وزیراعظم مرسی کی طرح مار دیا جائے گا،سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا، وکلا انصاف نہیں دلا سکتے تو شعبہ ختم سمجھیں،سپریم کورٹ کے واضح حکم کو ماننا توہین عدالت ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاسپریم کورٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق اور خوش آئند ہے،بانی پی ٹی آئی کیخلاف اتنے زیادہ جھوٹے کیسز کا ورلڈ ریکارڈ بنایا گیا۔
دریں اثنا پنجاب بار کونسل کے 19 اراکین نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کوہسپتال منتقل نہ کرنے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاعدالتی حکم کے باوجود طبی امداد نہ دینا ناقابل قبول ،ریاست آئین کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پابند ہے،حکومت ایسا کوئی اقدام نہ کرے جس سے اداروں میں تصادم ہو۔
دوسری جانب پنجاب بار کونسل نے بعض اراکین کے حالیہ بیان کو ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا چند افراد کے بیان کو بار کونسل کا اجتماعی موقف قرار نہیں دیا جا سکتا،جمہوری ادارے میں چند افراد کی رائے اکثریت پر مسلط نہیں ہو سکتی، زیر سماعت معاملات پر بار نمائندگان کو بیانات سے گریز کرنا چاہیے،فیصلہ عدالتیں آئین و قانون کے مطابق کریں گی، بار کا پلیٹ فارم ذاتی یا سیاسی مقاصد کےلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ ہوا تو دھرنا دیں گے، وکلا رہنما


















